عالمی طوفان کی جعلی پیش گوئی، نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
حکام کے مطابق اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ بعد ازاں ایبو نوح نے ایک نئی ویڈیو میں دنیا کے خاتمے کی تاریخ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسے مزید وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ زیادہ لوگوں کو "نجات" کا موقع فراہم کر سکے۔ اسلام ٹائمز۔ افریقی ملک گھانا میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شخص کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں نامعلوم افراد نے اس کشتی کو آگ لگا دی جسے مبینہ طور پر عالمی طوفان سے نجات کا ذریعہ قرار دیا جا رہا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق خود کو نبی قرار دینے والے شخص، جسے "ایبو نوح" کہا جا رہا ہے، اس نے دعویٰ کیا تھا کہ 25 دسمبر 2025 کو پوری دنیا میں ایک بڑا طوفان آئے گا اور صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو اس کی تیار کردہ کشتیوں میں موجود ہوں گے۔ اس دعوے پر یقین کرتے ہوئے کئی افراد نے اپنی جائیدادیں فروخت کر کے کشتیوں میں جگہیں حاصل کیں۔ تاہم حالیہ واقعے میں ایک نامعلوم شخص نے اس منصوبے کی علامت سمجھی جانے والی کشتی کو آگ لگا دی۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ جلنے والی کشتی دراصل کسی اور کی تھی، جسے واقعے کو محض ایک علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایبو نوح کو ایک نئی مرسڈیز گاڑی میں دیکھا گیا، جس کی قیمت تقریباً 89 ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر یہ گاڑی پیروکاروں سے جمع کی گئی رقم سے خریدی گئی تھی، جس پر عوامی ردعمل شدید ہو گیا۔ گھانا کی سکیورٹی فورسز نے ایبو نوح کو جھوٹی معلومات پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ بعد ازاں ایبو نوح نے ایک نئی ویڈیو میں دنیا کے خاتمے کی تاریخ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسے مزید وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ زیادہ لوگوں کو "نجات" کا موقع فراہم کر سکے۔ اس نے مزید کشتیوں کی تیاری کا دعویٰ بھی کیا، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایبو نوح
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔