وزیراعظم کی پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں نہیں ہو رہے؟ خواجہ آصف کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو رہی، اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وضاحت پیش کی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے جواب میں گالیوں اور تضحیک آمیز رویے کا سامنا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کئی بار بات چیت کی پیشکش کی، اور وزیراعظم نے تین سے چار مرتبہ واضح طور پر مذاکرات کی دعوت دی، مگر پی ٹی آئی نے ان کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات ہی میں ہے، لیکن جب جواب میں بدزبانی سامنے آتی ہے تو معاملات آگے نہیں بڑھ پاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار ایک عارضی چیز ہے، جبکہ سیاست میں مستقل مزاجی اور برداشت ضروری ہے۔ حکومت اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے سنجیدہ رویہ ظاہر نہیں ہو رہا۔
اس کے علاوہ وزیر دفاع نے ادارہ جاتی احتساب پر بھی بات کی اور بتایا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا احتساب کیا جا چکا ہے، جو اداروں میں خود احتسابی کے عمل کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ فوجی قیادت نے اپنے اداروں سے احتساب کی شروعات کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔