فری اسپیچ کلیکٹو نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق 40 حملوں میں سے 33 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہراساں کئے جانے کے 19 میں سے 14 واقعات صحافیوں سے متعلق تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں 2025ء میں اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزیوں کے 14,875 مقدمات درج کیے گئے، جن میں آٹھ صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کا قتل بھی شامل ہے۔ یہ جانکاری "فری اسپیچ کلیکٹو" کی جانب سے جاری رپورٹ میں دی گئی ہے.

اظہار رائے کی آزادی سے متعلق معاملوں کی نگرانی کرنے والی اس تنظیم نے اس عرصے میں سنسر شپ، عدالت کی طرف سے عائد پابندیاں، تعلیمی خودمختاری پر پابندی، فلموں کی سنسر شپ، پالیسی سے متعلق پابندی اور کارپوریٹ مداخلت جیسے واقعات کو ریکارڈ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سال اظہار رائے کی آزادی سے متعلق مقدمات میں 117 گرفتاریاں بھی ریکارڈ کی گئیں، جن میں آٹھ صحافیوں کی گرفتاری بھی شامل ہے۔

فری اسپیچ کلیکٹو نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق 40 حملوں میں سے 33 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہراساں کئے جانے کے 19 میں سے 14 واقعات صحافیوں سے متعلق تھے۔ اس کے علاوہ صحافیوں کو ان کے کام کے دوران دھمکی ملنے کے 12 معاملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ سال کے دوران آٹھ صحافیوں کو قتل کیا گیا، دو اترپردیش میں اور ایک ایک انڈمان اور نکوبار جزائر، چھتیس گڑھ، ہریانہ، کرناٹک، اڑیسہ اور اتراکھنڈ میں۔ پنجاب میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو بھی قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو صحافی، کشمیر کے عرفان معراج اور جھارکھنڈ کے روپیش کمار، اس سال بھی غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں رہے۔ عرفان معراج مارچ 2023ء سے اور کمار جولائی 2022ء سے جیل میں ہیں۔ گجرات میں اظہار رائے کی آزادی کی سب سے زیادہ 108 خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، اس کے بعد اترپردیش میں 83 اور کیرالہ میں 78۔

رپورٹ کے مطابق اس سال سینسر شپ کے 11,385 واقعات اور "لافیئر" کے 208 مقدمات درج کئے گئے، لافیئر کا مطلب ہے مخالفین کو ہراساں کرنے کے لئے قانونی کارروائی کا استعمال کرنا۔ سنسر شپ ڈیٹا میں مودی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بڑی تعداد میں اکاؤنٹ کو ہٹانے کے احکامات بھی شامل ہیں۔ مئی میں حکومت نے پلیٹ فارم سے 8,000 سے زیادہ اکاؤنٹ پر پابندی لگانے کی درخواست کی، جو ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ رپورٹ میں 2025ء میں انٹرنیٹ بند کرنے، موبائل ایپ  بلاک کرنے جیسے کے 3,070 انٹرنیٹ کنٹرول کے واقعات بھی درج کئے گئے۔ تنظیم نے کہا کہ اس سال تعلیمی اداروں میں "سنگین سنسرشپ" کے کم از کم 16 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں فلم سرٹیفیکیشن کو سنسرشپ کے ٹول کے طور پر "بے روک ٹوک" طریقے سے استعمال  کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیرالہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں 19 فلموں کی نمائش کی اجازت نہ دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں 2023ء کے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ اور نومبر میں مطلع کیے گئے اس کے قوانین کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے صحافت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور معلومات کے حق کے قانون کو کمزور کرکے ہندوستان کی شفافیت کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اظہار رائے کی آزادی سے متعلق صحافیوں کو رپورٹ میں سے زیادہ کیا گیا اس سال

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق