بھارت میں 2025ء میں اظہار رائے کی آزادی کی 14,800 سے زیادہ خلاف ورزیاں، 8 صحافیوں کا قتل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فری اسپیچ کلیکٹو نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق 40 حملوں میں سے 33 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہراساں کئے جانے کے 19 میں سے 14 واقعات صحافیوں سے متعلق تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں 2025ء میں اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزیوں کے 14,875 مقدمات درج کیے گئے، جن میں آٹھ صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کا قتل بھی شامل ہے۔ یہ جانکاری "فری اسپیچ کلیکٹو" کی جانب سے جاری رپورٹ میں دی گئی ہے.
فری اسپیچ کلیکٹو نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق 40 حملوں میں سے 33 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہراساں کئے جانے کے 19 میں سے 14 واقعات صحافیوں سے متعلق تھے۔ اس کے علاوہ صحافیوں کو ان کے کام کے دوران دھمکی ملنے کے 12 معاملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ سال کے دوران آٹھ صحافیوں کو قتل کیا گیا، دو اترپردیش میں اور ایک ایک انڈمان اور نکوبار جزائر، چھتیس گڑھ، ہریانہ، کرناٹک، اڑیسہ اور اتراکھنڈ میں۔ پنجاب میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو بھی قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو صحافی، کشمیر کے عرفان معراج اور جھارکھنڈ کے روپیش کمار، اس سال بھی غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں رہے۔ عرفان معراج مارچ 2023ء سے اور کمار جولائی 2022ء سے جیل میں ہیں۔ گجرات میں اظہار رائے کی آزادی کی سب سے زیادہ 108 خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، اس کے بعد اترپردیش میں 83 اور کیرالہ میں 78۔
رپورٹ کے مطابق اس سال سینسر شپ کے 11,385 واقعات اور "لافیئر" کے 208 مقدمات درج کئے گئے، لافیئر کا مطلب ہے مخالفین کو ہراساں کرنے کے لئے قانونی کارروائی کا استعمال کرنا۔ سنسر شپ ڈیٹا میں مودی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بڑی تعداد میں اکاؤنٹ کو ہٹانے کے احکامات بھی شامل ہیں۔ مئی میں حکومت نے پلیٹ فارم سے 8,000 سے زیادہ اکاؤنٹ پر پابندی لگانے کی درخواست کی، جو ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ رپورٹ میں 2025ء میں انٹرنیٹ بند کرنے، موبائل ایپ بلاک کرنے جیسے کے 3,070 انٹرنیٹ کنٹرول کے واقعات بھی درج کئے گئے۔ تنظیم نے کہا کہ اس سال تعلیمی اداروں میں "سنگین سنسرشپ" کے کم از کم 16 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں فلم سرٹیفیکیشن کو سنسرشپ کے ٹول کے طور پر "بے روک ٹوک" طریقے سے استعمال کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیرالہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں 19 فلموں کی نمائش کی اجازت نہ دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں 2023ء کے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ اور نومبر میں مطلع کیے گئے اس کے قوانین کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے صحافت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور معلومات کے حق کے قانون کو کمزور کرکے ہندوستان کی شفافیت کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اظہار رائے کی آزادی سے متعلق صحافیوں کو رپورٹ میں سے زیادہ کیا گیا اس سال
پڑھیں:
فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
فوٹو: آئی ایس پی آرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔