پاکستان کی روسی صدر کی رہائشگاہ پر مبینہ حملے کی سخت مذمت، امن کے لیے خطرہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائشگاہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مختلف عالمی طاقتیں تنازعات کے حل اور امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ روسی صدر کی رہائشگاہ کو نشانہ بنانے جیسا اقدام ناقابل قبول ہے اور اس کی کوئی بھی صورت امن کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس موقع پر روسی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر اس عمل کو مسترد کرتا ہے جو عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات، تحمل اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی مؤقف پر قائم رہے گا۔
دوسری جانب روسی حکام نے اس واقعے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے یوکرین پر براہِ راست الزامات عائد کیے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق یوکرین کی جانب سے نووگوروڈ ریجن میں واقع صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائشگاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب طویل فاصلے تک مار کرنے والے درجنوں ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، تاہم روس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔
روسی وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں اگر جاری رہیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ روسی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق رکھتی ہے۔
اُدھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی جانب سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کے دعوے دراصل عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔
زیلنسکی کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد ممکنہ طور پر یوکرینی دارالحکومت کیف میں سرکاری عمارتوں پر حملوں کے لیے جواز پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص امریکا، سے اپیل کی ہے کہ روسی دھمکیوں اور بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ