2025 تعلیم میں اصلاحات اور بہتری کا سال رہا، وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سال 2025 بھی گزشتہ برس کی طرح صوبے میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جس کے دوران محکمہ تعلیم میں اصلاحات، شفافیت اور معیار کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی۔
تعلیمی شعبے کی سالانہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے بتایا کہ محکمہ تعلیم نے دو ملین گھوسٹ انرولمنٹ ختم کر کے نظام کو شفاف بنایا، جبکہ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے ذریعے اساتذہ کی کمی کے بحران پر قابو پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا نجی اسکولوں کی فیس کم کرنے کا فیصلہ، حقیقت کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ نصابی اصلاحات پر تاریخی نوعیت کا کام کیا گیا اور امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ کے نظام پر منتقل کیا گیا۔
2025 میں پنجاب کے تعلیمی شعبے نے اصلاحات، شفاف گورننس اور بڑے منصوبوں کے ذریعے نمایاں پیش رفت کی۔ ان شاء اللہ 2026 میں ہم تعلیمی معیار، مساوات اور نتائج پر مبنی تعلیم کو مزید مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھائیں گے۔ pic.
— Rana Sikandar Hayat (@RanaSikandarH) December 23, 2025
رانا سکندر حیات کے مطابق بچپن کی ابتدائی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی اور صوبے کے 10 ہزار اسکولوں میں ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن رومز قائم کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں روزانہ 11 لاکھ طلبا و طالبات اسکول نیوٹریشن پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ریکارڈ اقدامات کیے گئے۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران 268 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا اور اساتذہ کو ہراسمنٹ سے بچانے کے لیے 37 کیسز پر فیصلے کیے گئے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب لودھراں کے تاریخی تعلیمی اجتماع میں طلبہ کے درمیان، لیپ ٹاپ تقسیم
انہوں نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبا کو بھی 10 ہزار لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ تعلیمی سہولیات میں برابری کو فروغ دیا جا سکے۔
اعلیٰ تعلیم سے متعلق اقدامات پر بات کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ صوبے کے 450 کالجز میں میرٹ کی بنیاد پر پرنسپلز تعینات کیے گئے جبکہ 29 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل مکمل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تمام ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں سٹیم کلبز قائم ہو چکے ہیں جبکہ سٹیم لیبز بنانے کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب ہائر ایجوکیشن کے مختلف شعبوں میں نوکریوں کا اعلان
صوبائی وزیر تعلیم نے سرکاری اسکولوں پر اعتماد بڑھانے کے لیے اپنے بیٹے کو سرکاری اسکول میں داخل کروا کر ایک نئی اور بے مثال روایت قائم کرنے کا بھی حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے کیونکہ ان کا کام خود بولتا ہے، حکومت محض دعوے نہیں کرتی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے نتائج دکھاتی ہے۔
رانا سکندر حیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ سال بھی تعلیم کے میدان میں ریکارڈ کام کیا جائے گا اور اصلاحات کا یہ سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2025 پنجاب تعلیمی سہولیات تعلیمی نظام چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن رانا سکندر حیات لیپ ٹاپ محکمہ تعلیم میرٹ وزیر تعلیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تعلیمی سہولیات تعلیمی نظام رانا سکندر حیات لیپ ٹاپ محکمہ تعلیم وزیر تعلیم رانا سکندر حیات محکمہ تعلیم نے بتایا کہ وزیر تعلیم انہوں نے تعلیم نے کیے گئے کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب