آسٹریلیا فائرنگ کیس میں دہشت گرد نیٹ ورک کا خدشہ ختم، تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
آسٹریلوی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ملوث باپ بیٹا نے اکیلے کارروائی کی تھی اور ان کا کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
یہ واقعہ 14 دسمبر کو ایک یہودی مذہبی تقریب کے دوران پیش آیا تھا، جس میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم نے شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملہ کیا۔
آسٹریلوی فیڈرل پولیس کمشنر کرسّی بیریٹ نے میڈیا کو بتایا کہ تحقیقات میں اب تک اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملزمان کو کسی تنظیم نے ہدایات دی ہوں یا وہ کسی دہشت گرد سیل کا حصہ ہوں۔ ان کے مطابق دونوں افراد نے انفرادی طور پر اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دیہی علاقوں میں شاٹ گن چلانے کی مشق کی تھی اور اکتوبر میں ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں وہ صیہونیت کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے داعش کا جھنڈا دکھا رہے تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ حملے سے قبل باپ بیٹا فلپائن کے جنوبی شہر ڈاواؤ گئے تھے، جہاں وہ ایک سستے ہوٹل میں مقیم رہے۔ پولیس کے مطابق اس دورے کے مقصد کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
حملے کے دوران ساجد اکرم پولیس فائرنگ میں ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کا بیٹا نوید اکرم گرفتار ہے اور اس پر 15 افراد کے قتل سمیت دہشت گردی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکام نے اعلان کیا ہے کہ نئے سال کی تقریبات کے دوران سڈنی میں رات 11 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
دوسری جانب آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیزی نے واقعے کے بعد اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے، بڑے پیمانے پر گن بائی بیک اسکیم اور نفرت انگیز تقاریر پر سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔ یہ 1996 کے پورٹ آرتھر واقعے کے بعد ملک کی سب سے بڑی اسلحہ واپسی مہم ہوگی۔
نئے سال کے موقع پر سڈنی میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ پولیس ہائی پاور ہتھیاروں کے ساتھ تقریبات کی نگرانی کرے گی۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس منس نے کہا ہے کہ عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔