WE News:
2026-07-24@05:41:47 GMT

پنجاب پولیس نے سال 2025 میں کتنے ہزار منشیات فروش گرفتار کیے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

پنجاب پولیس نے سال 2025 میں کتنے ہزار منشیات فروش گرفتار کیے؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن ’ڈرگ فری پنجاب‘ کو عملی شکل دینے کے لیے پنجاب پولیس نے سال 2025 کو منشیات کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا سال قرار دیا تھا۔

اس مقصد کے تحت صوبہ بھر میں منشیات فروشوں اور اسمگلرز کے خلاف بے مثال اور ہمہ گیر آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں ہزاروں ملزمان کو گرفتار کرکے بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی گئیں۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، رواں سال کے دوران لاہور سمیت پورے صوبے میں منشیات فروشوں کے ٹھکانوں پر ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کی کارروائی، منشیات سپلائی کرنے والے جارڈن گینگ کے ملزمان گرفتار

ان کارروائیوں کے نتیجے میں منشیات کے دھندے میں ملوث 76 ہزار ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 75 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔

ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 43 ہزار 269 کلوگرام چرس، 2 ہزار 279 کلوگرام آئس، 3 ہزار 834 کلوگرام ہیروئن اور 3 ہزار 89 کلوگرام افیون برآمد کی گئی۔

اس کے علاوہ 9 لاکھ 23 ہزار لٹر سے زائد شراب بھی ضبط کی گئی۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کے 200 سے زیادہ افسران و اہلکار منشیات فروشوں کے سہولت کار نکلے، رپورٹ میں انکشاف

صوبائی دارالحکومت لاہور میں منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر رہیں، جہاں 26 ہزار سے زائد منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا اور 25 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔

پنجاب پولیس نے صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہی نہیں بلکہ نشے کے عادی افراد کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی۔

ترجمان کے مطابق، 2 ہزار 159 نشے کے شکار افراد کو علاج اور بحالی کے لیے خصوصی مراکز میں داخل کروایا گیا، جو سماجی بہبود کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں منشیات کے ملزمان کے خلاف قوانین مزید سخت، ترمیمی بل اسمبلی سے منظور

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ منشیات ڈیلرز اور اسمگلرز کے خلاف خصوصی آپریشنز آئندہ سال بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ منشیات کی آن لائن سپلائی چین میں ملوث تمام عناصر کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

آئی جی پنجاب نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں اور ہاسٹلز کے گرد و نواح میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں منشیات کے خلاف بڑی پیش رفت، کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کا قیام

ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی مؤثر کارروائیاں نہ صرف منشیات کی سپلائی چین کو توڑتی ہیں بلکہ معاشرے کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پنجاب حکومت اور پولیس کی یہ مسلسل کاوشیں ’ڈرگ فری پنجاب‘ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک مضبوط قدم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئس اسمگلرز افیون پنجاب پولیس چرس ڈاکٹر عثمان انور لاہور منشیات منشیات ڈیلرز ہیروئن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسمگلرز افیون پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور لاہور منشیات منشیات ڈیلرز ہیروئن منشیات فروشوں میں منشیات کے پنجاب پولیس کے خلاف

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار