معاملہ غریبوں کی پراپرٹیوں کا ہے، کیا پنجاب پروٹیکشن ایکٹ کو سیاسی کرنا ضروری ہے:لاہور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان نے پنجاب پروٹیکشن اونر شپ ایکٹ سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیا اس معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے؟، یہ معاملہ غریب شہریوں کی پراپرٹیوں کا ہے، آپ اس درخواست کے ذریعے حکومت کو فائدہ دے رہے ہیں۔لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کے خلاف آئینی درخواست پر سماعت ہوئی۔جسٹس فیصل زمان خان نے درخواست چھٹیوں کے بعد متعلقہ بنچ کے روبرو لگانے کی ہدایت کردی۔دوران سماعت جسٹس فیصل زمان خان نے وکیل اظہر صدیق سے کہا کہ کیا اس معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے، اتنی ٹرولنگ کے باوجود عدالت نے اس معاملے کو اٹھایا۔آپ نے دو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کو لے کر درخواست دائر کی، کیا ان ایم پی ایز نے اسمبلی میں اس ایکٹ کے خلاف تقریر کی؟ ،یہ اسمبلی میں تو بولے نہیں اور یہاں درخواست دائر کردی۔جسٹس فیصل زمان خان نے کہا کہ آپ نے اپنی پٹیشن فیس بک پر بھی لگا دی ہے، اس معاملے کو سیاست زدہ نہ کریں، یہ معاملہ غریب شہریوں کی پراپرٹیوں کا ہے، آپ اس درخواست کے ذریعے حکومت کوفائدہ دے رہے ہیں؟۔عدالت نے درخواست دائر کرنے والے وکیل سے مزید کہا کہ آپ کو اپنی درخواست کو واپس لینا چاہیے، آپ کسی متاثرہ شخص کی جانب سے درخواست دائر کرتے تو سمجھ آتی، آپ کی اس درخواست پر بہت افسوس ہوا۔اظہر صدیق کی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جائیداد سے متعلق اختیارات انتظامیہ کو دے کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی، ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی میں فریقین کو وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں۔پی ٹی آئی کے اراکین نے درخواست میں کہا ہے کہ سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کرنا آئین سے متصادم اقدام ہے، ایگزیکٹو اور عدالتی اختیارات کو یکجا کرنا عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے، استدعا ہے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ اور اس کے تحت ہونے والے اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس فیصل زمان خان نے درخواست دائر اس معاملے کو
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔