سردی زیادہ لگنے کا تعلق غذائی عادات سے، موسم نہیں: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر آپ سردیوں میں اکثر اضافی گرم کپڑوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ دیگر لوگ آرام دہ محسوس کرتے ہیں، تو یہ فرق محض موسم کی شدت کا نتیجہ نہیں ہوتا۔
ماہرین صحت کے مطابق سردی کا احساس زیادہ تر ہماری خوراک اور غذائی عادات سے جڑا ہوتا ہے۔ کم کیلوری والی غذا یا ضروری غذائی اجزاء کی کمی جسم کی حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر دیتی ہے، جس کے باعث انسان زیادہ ٹھنڈ محسوس کرتا ہے۔
جسم کے لیے خوراک ایندھن کا کام کرتی ہے، جو ہاضمہ اور پٹھوں کی سرگرمی کے ذریعے حرارت پیدا کرتی ہے۔ اگر کیلوری کی مقدار کم ہو یا کھانے چھوڑ دیے جائیں، تو جسم توانائی بچانے کے لیے حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق طویل عرصے تک کم کیلوری والی غذا میٹابولزم کو سست کر دیتی ہے اور جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کا قدرتی عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال اکثر ان افراد میں دیکھی جاتی ہے جو سردیوں میں سخت ڈائیٹ پر ہوتے ہیں یا کھانے کی مقدار محدود کر دیتے ہیں۔
پروٹین پٹھوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور پٹھے حرارت پیدا کرنے کے عمل میں مددگار ہوتے ہیں۔ صحت مند چکنائیاں جسم کو مستقل توانائی فراہم کرتی ہیں اور اسے سردی سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اگر غذا میں پروٹین یا چکنائی کی کمی ہو، تو جسم حرارت پیدا کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔
ماہرین غذائیت تجویز کرتے ہیں کہ دالیں، انڈے، دودھ، مچھلی یا گوشت جیسی غذائیں مناسب پروٹین فراہم کریں، جبکہ گری دار میوے، بیج، گھی یا تیل توانائی کے لیے ضروری کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں۔ یہ اجزاء جسم کے حرارت پیدا کرنے کے عمل یعنی تھرموجنیسس کو فعال رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہمیشہ ٹھنڈ لگنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسم میں کچھ اہم غذائی اجزاء کی کمی ہو۔ آئرن کی کمی جسم کے ٹشوز تک آکسیجن کی ترسیل کم کر دیتی ہے، جبکہ وٹامن بی12 اور آیوڈین کی کمی میٹابولزم کو متاثر کر سکتی ہے۔
آئرن کی کمی والے افراد عموماً ٹھنڈے ہاتھ اور پاؤں، تھکن اور کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے فوراً معلوم کیا جا سکتا ہے کہ غذائیت کی کمی اس مسئلے کی وجہ ہے یا نہیں۔
بے قاعدگی یا طویل وقفے کے ساتھ کھانے سے جسم ٹھنڈ کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ جسم توانائی کو اہم اعضاء کو فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہاتھ اور پاؤں اکثر ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ چند چھوٹے اور متواتر کھانے کھانے سے جسم میں توانائی اور حرارت برقرار رہتی ہے۔
کچھ غذائیں قدرتی طور پر جسم کو گرم رکھتی ہیں اور خون کی روانی کو بہتر کرتی ہیں، جیسے گرم پکایا ہوا کھانا، سوپ اور اسٹو، مصالحے جیسے ادرک، کالی مرچ اور دارچینی، مکمل اناج اور جڑ والی سبزیاں، اور کافی مقدار میں گرم مشروبات اور پانی۔
تاہم، اگر غذائیت کے باوجود شدید یا مسلسل ٹھنڈ کا احساس برقرار رہے، تو یہ ہائپو تھائیرائیڈزم، اینیمیا یا خون کی ناقص گردش جیسی طبی مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ ماہرین اس طرح کی علامات کے شکار افراد کو طبی معائنہ کرانے کی ہدایت دیتے ہیں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حرارت پیدا کرنے کرتے ہیں سکتا ہے کی کمی کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔