سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہلڑ بازی، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسکرین گریب
پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد پر ہلڑ بازی کے معاملے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ میں ہلڑ بازی میں ملوث اشخاص کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور معاملے کی تفتیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لینے کی تجویز دی گئی ہے۔
اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ آنے والوں کے صرف ناموں کی فہرست دی، اپوزیشن کی دی گئی ناکافی لسٹ کے باعث شناخت میں مشکلات ہوئیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اخلاقی و ذہنی پستی کی شکار، رویہ غیر جمہوری اورقابل مذمت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مطیع اللّٰہ برقی نام کے شخص نے جھوٹ بول کر اسمبلی میں داخلے کی کوشش کی۔ مطیع اللّٰہ برقی نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا پی کے 89 سے ایم پی اے اشفاق ہیں، صوبائی وزیر کے پی مینا خان نے تصدیق بھی کی کے مطیع اللّٰہ برقی ایم پی اے اشفاق نہیں ہیں۔
مطیع اللّٰہ برقی کو باہر جانے کا کہنے پر انہوں نے سیکیورٹی سے ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کی، اپوزیشن نے کہا تھا کہ شناخت کے لیے 2 پی ٹی آئی ارکان مین گیٹ پر رہیں گے، جو نہ ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کی لسٹ میں شناختی کارڈ نمبر، تصاویر اور گاڑیوں کے نمبر میں سے کچھ نہیں تھا، مکمل ڈیٹا نہ ہونے کے باعث شناخت میں مشکلات آئیں، اسمبلی سیکیورٹی نے تحمل سے شناخت کا کہا جس پر گالم گلوچ اور دھکم پیل کی گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے دی گئی لسٹ میں سزا یافتہ حیدر مجید کا نام بھی شامل تھا، اسمبلی سیکریٹریٹ نے موقع پر موجود اسمبلی سیکیورٹی کے بیانات بھی قلم بند کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مطیع الل
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔