2025: پاکستانی خارجہ پالیسی و سفارت کاری کا متحرک اور فیصلہ کن سال
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک)سال کے دوران سفارتی کامیابیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ پاکستان عالمی چیلنجز کےباوجود اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہا
سال 2025 پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کے حوالے سے غیر معمولی طور پر متحرک اور اہم ثابت ہوا۔ پاکستان نے ایک جانب علاقائی اور عالمی فورمز پر اپنے اصولی مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا، تو دوسری جانب اعلیٰ قیادت کے بیرونی دوروں اور غیر ملکی وفود کی پاکستان آمد نے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاع کامعاہدہ اہم ترین پیش رفت تھا ۔
سال بھر صدرِ پاکستان، وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے چین، سعودی عرب، ترکی، ایران، امریکا، یورپی ممالک، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم دورے کیے، جن کے نتیجے میں دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی روابط کو فروغ ملا۔
مئی میں معرکۂ حق کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئی عملی سمت میں داخل ہوئے۔ اعلیٰ سطحی سیاسی و عسکری روابط میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صلاحیتوں کو سراہا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں اشتراک مضبوط ہوا۔
پاکستان اور چین کے تعلقات بدستور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون رہے۔ چین نے پاکستان کی معاشی ترقی، دفاعی صلاحیت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تعاون جاری رکھا، جبکہ سی پیک کے تحت توانائی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی۔
سال 2025 کی اہم ترین سفارتی کامیابیوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ فلسطین، غزہ اور امتِ مسلمہ کے دیگر مسائل پر دونوں ممالک کے مؤقف میں مکمل ہم آہنگی برقرار رہی۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر فلسطین، کشمیر اور غزہ کی صورتحال پر دوٹوک اور اصولی مؤقف اپنایا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
2025 کے دوران متعدد غیر ملکی سربراہانِ مملکت اور حکومتی شخصیات نے پاکستان کا دورہ کیا، جن میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور قازقستان کے نائب وزیراعظم مورات نورتیلیو شامل ہیں۔
26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران یو اے ای کی جانب سے فوجی فاؤنڈیشن میں ایک ارب ڈالر کے حصص خریدنے کا تاریخی معاہدہ طے پایا۔
ماہرین کے مطابق 2025 کی سفارتی کامیابیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستان نے عالمی چیلنجز کے باوجود متوازن، فعال اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا کامیابی سے تحفظ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور نے پاکستان پاکستان ا کے صدر
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔