نجکاری کمیٹی وفاقی کابینہ کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کی منظوری کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
کابینہ کی نجکاری کمیٹی(سی سی او پی)نے عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کے لیے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کو اس کی منظوری کے لیے سفارش کردی۔
کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقد ہوا،۔ جس میں وفاقی وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیران برائے نجکاری، صنعت و پیداوار، خصوصی معاونین وزیراعظم طارق باجوہ اور بلال کیانی، وفاقی سیکریٹریز کابینہ، نجکاری، دفاع، قانون، توانائی، نجکاری کمیشن، صنعت و پیداوار سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری وزارت نجکاری نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آیہ اے سی ایل) کی نجکاری کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔
کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے اے ایچ سی کی قیادت میں قائم کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کرتے ہوئے اس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو سفارش کرنے کا فیصلہ کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ نجکاری کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی آئی اے کی نجکاری سے قومی ایئرلائن ایک بار پھر اپنے سنہری دور کی طرف لوٹ سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔