2025 ، سستی پن بجلی کی پیداوار 33 ارب 12 کروڑ یونٹ ریکارڈ، واپڈا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزدیسک)واپڈا کے مطابق سال 2025 میں نیشنل گرڈ کو 33 ارب 12 کروڑ یونٹ سستی پن بجلی مہیا کی گئی ۔ پن بجلی کی قیمت 3 روپے 93 پیسے فی یونٹ ہے۔ آئندہ سال دیامربھاشا اور داسو کے مین ڈیمز پر آر سی سی بچھانے کا کام ہوگا۔ واپڈا کے آٹھ زیرتعمیر منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرے کی صلاحیت میں نو اعشاریہ سات ملین ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا۔
واپڈا نے 2025 میں آبی وسائل اور پن بجلی کے شعبوں میں حاصل اہداف سے متعلق اعداد و شمارجاری کردیئے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں نیشنل گرڈ کو 33 ارب 12 کروڑ یونٹ سستی پن بجلی مہیا کی گئی ۔ نیشنل گرڈ کو فراہم کی گئی واپڈا پن بجلی کی قیمت تین روپے 83 پیسے فی یونٹ ہے۔
تربیلا پن بجلی گھر نے 14 ارب 30 کروڑ یونٹ ، تربیلا فور توسیعی منصوبے نے 5 ارب 60 کروڑ یونٹ جبکہ غازی بروتھا نے نیشنل گرڈ کو 6 ارب 50 کروڑ یونٹ بجلی فراہم کی۔ منگلا نے نیشنل گرڈ کو 3 ارب 60 کروڑ یونٹ ، وارسک نے 77 کروڑ یونٹ اور چشمہ پن بجلی گھر نے 79 کروڑ یونٹ پن بجلی فراہم کی۔
دیگرچھوٹے پن بجلی گھروں نے مجموعی طورپر ایک ارب 56 کروڑ یونٹ بجلی مہیا کی۔ اگست میں مہمند پراجیکٹ پر مین ڈیم کی بھرائی شروع کرنے کا اہم ہدف حاصل کیا گیا۔ واپڈا کے آٹھ زیرتعمیرمنصوبےمکمل ہونے سے پانی ذخیرے کی صلاحیت میں 9.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیشنل گرڈ کو پن بجلی کی کروڑ یونٹ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔