50 فیصد سے زائد پاکستانی نئے سال سے پُرامید
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے نئے سال سے امیدیں وابستہ کرلیں، انہوں نے 2026ء کو معاشی بہتری کا سال قرار دیا ہے۔
گیلپ پاکستان کے نئے سروے کے نتائج کے مطابق نصف سے زائد پاکستانی نئے سال سے پُرامید دکھائی دیے، انہوں نے 2026ء کو معاشی بہتری کا سال قرار دیا اور حالات میں مزید بہتری کی امید کی۔
سروے نتائج کے مطابق 2026ء میں بہتری کی امید کرنے والے پاکستانیوں نے دنیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
گیلپ پاکستان کے مطابق عالمی سطح پر 37 فیصد جبکہ پاکستان میں 51 فیصد نئے سال میں بہتری کے لیے پُرامید نظر آئے۔
سروے نتائج کے مطابق پاکستانیوں میں ملکی معاشی حالات بہتر ہونے کی امید بھی بڑھی ہیں، 2024ء میں 43 فیصد جبکہ 2025ء میں 53 فیصد نے 2026ء میں معاشی حالات بہتر ہونے کا کہا۔
سروے میں 52 فیصد پاکستانی نئے سال میں پُر امن دنیا کے لیے بھی پُر امید دکھائی دیے، البتہ 21 فیصد نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں دنیا میں فساد بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
پُرامن دنیا کا خواب دیکھنے والے پاکستانیوں کی شرح بھارت اور عالمی اوسط سے دگنی نظر آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔