data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گزشتہ دنوں اسرائیل نے صومالی لینڈ کی خود ساختہ حکومت کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا، برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں فوری تعاون کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ابراہام معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر طے پائے تھے۔ اسرائیلی بیان کے مطابق نیتن یاہو اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی نے باہمی تسلیم کے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ ابراہام معاہدوں میں شامل ہوگا، جسے انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ شراکت داریوں کے فروغ، باہمی خوشحالی میں اضافے اور مشرق وسطیٰ اور افریقا میں استحکام کے فروغ کے لیے پْرعزم ہے۔ دوسری جانب صومالیہ کی حکومت نے اسرائیل کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی قدم اور اپنی خودمختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔ صومالیہ کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صومالی لینڈ جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابل تقسیم اور ناقابل علٰیحدہ حصہ ہے، صومالیہ ایک خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ خلیج عدن میں ایک تزویراتی محل ِ وقوع کا حامل علاقہ ہے، اس کی آبادی لگ بھگ ساٹھ لاکھ ہے، یہ شمال مغربی صومالیہ میں واقع ہے جس نے 1991 سے اپنی خود مختاری کا اعلان کر رکھا ہے، اس کا اپنا آئین، کرنسی، نظام، پارلیمنٹ اور پرچم ہے، تاہم ابھی تک اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ سال صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایتھوپیا کو ساحل کی ایک پٹی بندرگا اور فوجی اڈے کے طور پر لیز پر دی گئی جس پر صومالی کی حکومت نے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل کے اس فیصلے پر صومالیہ حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا ہے، مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک تھے، اس کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ تھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی مذمت کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش شامل نہیں ہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش نے امریکی حکومت کے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر رکھے ہیں۔ پاکستانی دفتر ِ خارجہ نے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے نام نہاد علاقے ’’صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف برادر ملک صومالیہ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ عالمی برادری اس طرح کے اقدامات کو مسترد کرے اور خطے میں امن و استحکام کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے سے اسرائیل کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ اسرائیل ابراہام معاہدے کے تحت اپنے سفارتی تعلقات کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، خود بن یامین نیتن یاہو اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اہراہام معاہدے کی روح تھا۔ صومالیہ لینڈ اپنے جغرافیائی محل ِ وقوع کی وجہ سے اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے، بحیرہ احمر اور باب المندب کی وجہ سے یہ علاقہ عالمی تجارت کا اہم بحری راستہ ہے جس میں اسرائیل اپنی سلامتی اور دفاع کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام سے نہ صرف یہ کہ خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا بلکہ اس سے دیگر شورش زدہ علاقوں اور ملکوں میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے، واضح رہے کہ صومالی لینڈ کی بندرگاہ بربرہ بابْ المندب کے قریب ترین تجارتی و عسکری پوائنٹس میں شمار ہوتی ہے اور یہ محض ایک آبنائے نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان عالمی سپلائی چین اور نہر ِ سویز کی براہِ راست اقتصادی شہ رگ ہے، جس پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا حامل ہونا خطے میں کسی بھی اسٹرٹیجک طاقت کو غیر معمولی سیاسی، عسکری اور معاشی برتری دلا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا بھی مظہر ہے۔ مسلم ممالک کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے محض مذمتی بیان سے کام نہیں چل سکتا، اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بظاہر ایک سفارتی عمل محسوس ہورہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نئے بحران کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم کہ صومالی لینڈ صومالیہ کی اسرائیل کے نیتن یاہو کے مطابق کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔