اسلام آباد میں نیو ایئر نائٹ پر ٹریفک پلان جاری، 350 سے زائد افسران تعینات
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے نئے سال کی خوشیوں کے پیشِ نظر نیو ایئر نائٹ کے دوران ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔ شہر میں شام 7 بجے سے رات 3 بجے تک ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ 350 سے زائد افسران سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کی کارروائی، دہرے قتل کا مجرم گرفتار
نیو ایئر نائٹ کی تقریبات کے باعث ایکسپریس ہائی وے، جناح ایونیو، سری نگر ہائی وے، کلب روڈ، مری روڈ اور پارک روڈ پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہوگا۔ جناح ایونیو فلائی اوور، زیروپوائنٹ، کھنہ اور پی ڈبلیو ڈی انڈرپاس پر بھی ٹریفک بڑھنے کا امکان ہے۔
ہلڑ بازی، ون ویلنگ اور ریش ڈرائیونگ روکنے کے لیے 8 خصوصی سکواڈز تشکیل دیے گئے ہیں۔ والدین سے درخواست ہے کہ وہ بچوں کو ان سرگرمیوں سے روکیں۔ کار سکٹنگ اور ریش ڈرائیونگ پر سخت کارروائی ہوگی۔
تفریحی مقامات پر بھی ٹریفک کے خصوصی دستے تعینات ہوں گے اور 7 بجے سے رات 3 بجے تک شہری متبادل راستے استعمال کرسکیں گے۔ سڑکوں پر کسی کو گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:شاہین چوک انڈر پاس کی تعمیر، اسلام آباد پولیس نے متبادل ٹریفک پلان جاری کردیا
شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ نئے سال کی خوشیاں مناتے ہوئے ٹریفک قوانین کا احترام کریں۔ مزید معلومات کے لیے شہری ٹریفک ہیلپ لائن 1915 یا پکار 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس ٹریفک پلان نیو ایئر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس ٹریفک پلان نیو ایئر ٹریفک پلان نیو ایئر کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔