اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی اور پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت اے ایس پیز کو ہر سال آسان اور کم اقساط پر پلاٹس فراہم کیے جائیں گے، اس کے علاوہ پاکستان بھر سے ہر سال 10 انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز کو سکالرشپ پر پولیس سے متعلق کورسز کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جائے گا۔

نئے سال کا نیا تحفہ! یکم جنوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

وفاقی وزیرِ داخلہ نے اعلان کیا کہ 15 کانسٹیبلز کے بیٹے یا بیٹیاں جو پاکستان کی بہترین جامعات میں داخلہ حاصل کریں گے، ان کے تعلیمی اخراجات نیشنل پولیس فاؤنڈیشن برداشت کرے گی، اسی طرح ہر سال 5 ایس پی اور ایس ایس پی رینک کے افسران کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں ڈگری کے لیے سکالرشپ پر بیرونِ ملک بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

محسن نقوی نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے وسائل میں مزید اضافے کے لیے جامع پلان طلب کرتے ہوئے ادارے کو خسارے سے نکال کر سرپلس میں لانے پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح، کرایہ کتنا ہوگا؟

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک انتہائی فعال اور متحرک ادارہ بنانا حکومت کی ترجیح ہے، اجلاس میں فاؤنڈیشن کی کارکردگی، مستقبل کے منصوبوں اور پولیس اہلکاروں کے لیے فلاحی اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے لیے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم