بی بی ایل میں شاہین آفریدی کی انجری کے باعث وطن واپسی، ری ہیب کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے حوالے سے بگ بیش لیگ میں کھیلتے ہوئے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وہ میچ کے دوران گھٹنے کی انجری کا شکار ہو گئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انجری کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے احتیاطی اقدام کے طور پر شاہین آفریدی کو وطن واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور بحالی کا عمل پاکستان میں کیا جا سکے۔ یہ خبر نہ صرف برسبین ہیٹ کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے بلکہ پاکستانی شائقین کرکٹ کی نظریں بھی اب شاہین کی صحت پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
شاہین آفریدی آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ہفتہ 27 دسمبر کو ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران انہیں بولنگ کرتے ہوئے گھٹنے میں تکلیف محسوس ہوئی۔ میچ کے دوران ہی طبی عملے نے ان کا ابتدائی معائنہ کیا، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انجری کو مزید بگاڑ سے بچانے کے لیے انہیں لیگ کے بقیہ میچز سے دستبردار کر کے پاکستان واپس بھیجا جائے۔
ذرائع کے مطابق شاہین شاہ آفریدی ممکنہ طور پر آج وطن واپس پہنچیں گے۔ ان کی پاکستان آمد کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ان کے لیے خصوصی ری ہیب پروگرام ترتیب دیا جائے گا، جس میں فزیوتھراپی، میڈیکل ٹیسٹس اور فٹنس بحالی کے مختلف مراحل شامل ہوں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ شاہین مکمل فٹ ہو کر ہی دوبارہ میدان میں اتریں، تاکہ مستقبل میں کسی بڑے ایونٹ یا سیریز کے دوران انہیں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب برسبین ہیٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیم کی ایڈیلیڈ سے واپسی پر شاہین آفریدی کا دوبارہ معائنہ کیا جائے گا اور ان کی انجری سے متعلق تمام رپورٹس پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ برسبین ہیٹ نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ شاہین جلد صحتیاب ہو جائیں گے اور آئندہ کسی موقع پر دوبارہ ٹیم کا حصہ بن سکیں گے۔
شاہین شاہ آفریدی نے بھی اپنی انجری کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ غیر متوقع انجری کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ پاکستان میں مکمل ری ہیب پروگرام سے گزریں گے اور اپنی فٹنس پر توجہ دیں گے۔ شاہین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جلد صحتیاب ہو کر دوبارہ کھیل کے میدان میں واپسی کریں گے۔
اپنے پیغام میں شاہین آفریدی نے برسبین ہیٹ کی انتظامیہ، ٹیم میٹس اور کوچنگ اسٹاف کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے مداحوں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جن کی جانب سے مسلسل دعاؤں اور حوصلہ افزائی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ شاہین کا کہنا تھا کہ فینز کی سپورٹ ہی ان کے لیے سب سے بڑی طاقت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ بورڈ شاہین آفریدی برسبین ہیٹ کے دوران وطن واپس کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔