بوئنگ کو دھچکا، ایئر چائنا نے 60 ایئربس طیاروں کا انتخاب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
چین کی قومی فضائی کمپنی ایئر چائنا اور اس کی ایک ذیلی کمپنی نے یورپی طیارہ ساز ادارے ایئربس کے ساتھ 60 کی تعداد میں اے320 نیو طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کر لیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 9.5 ارب ڈالر بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی طیارہ ساز کمپنی میدان میں آگئی، کیا ایئربس اور بوئنگ کا خاتمہ قریب ہے؟
یہ اعلان دنیا کی دوسری بڑی ایوی ایشن مارکیٹ چین میں اس ہفتے ہونے والے ایسے کئی فیصلوں کا تسلسل ہے، جہاں اسپرنگ ایئرلائنز اور جونیاؤ ایئرلائنز سمیت دیگر کمپنیاں بھی ایئربس کے طیارے خریدنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہیں۔
Air China Plans $9.
Air #China says it plans to buy 60 Airbus A320neo family aircraft in a deal worth about $9.53 billion at list prices. The jets will be delivered in phases over the coming years, supporting fleet renewal and boosting the… pic.twitter.com/hdjPV3Zrdt
— Bridging News (@BridgingNews_) December 31, 2025
ایئر چائنا نے شنگھائی اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی فائلنگ میں بتایا کہ یہ طیارے 2028 سے 2032 کے درمیان مرحلہ وار فراہم کیے جائیں گے۔
ایئربس نے ایک بیان میں کہا کہ خوشی ہے کہ ایئر چائنا نے ایئربس اے320 فیملی کے مزید طیارے آرڈر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: خاتون پائلٹ کی چینی ساختہ سی 919 میں تاریخی تعیناتی
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خریداری 2022 میں چائنا ایوی ایشن سپلائز ہولڈنگ کمپنی اور ایئربس کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا حصہ ہے۔
اس فریم ورک معاہدے کے تحت اے320 فیملی کے 132 طیارے اور اے350 وائڈ باڈی کے 8 طیارے شامل تھے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 17 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ فلائٹ، چینی ایئرلائن کا نیا ریکارڈ
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے باعث امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو چین میں نئے آرڈرز حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کا فائدہ ایئربس کو پہنچ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرڈرز اسپرنگ ایئرلائنز ایئربس بوئنگ بیجنگ جونیاؤ ایئرلائنز چائنا ایوی ایشن سپلائز ہولڈنگ کمپنی طیارہ ساز واشنگٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپرنگ ایئرلائنز ایئربس جونیاؤ ایئرلائنز طیارہ ساز واشنگٹن ایئر چائنا طیارہ ساز
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔