ایران میں سخت معاشی حالات کیخلاف تہران میں دکانداروں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں سنگین معاشی حالات کے باعث درپیش مشکلات کے خلاف گزشتہ روز دارالحکومت تہران میں تاجروں نے احتجاج کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز ایران میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ کر تقریباً 14 لاکھ 20 ہزار ایرانی ریال تک جا پہنچی، جبکہ ایک سال قبل یہی شرح قریباً 8 لاکھ 20 ہزار ریال تھی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق شدید سردی اور توانائی کی بچت کے اقدامات کے تحت بدھ کے روز تہران سمیت ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں اسکول، بینک اور تجارتی مراکز بند رہیں گے۔
ان حالات پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کی جائے اور ان کے جائز مطالبات سنے جائیں، تاکہ حکومت مسائل کے حل کے لیے ذمہ داری کے ساتھ تمام ممکنہ اقدامات کر سکے۔
دریں اثنا سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی عوام کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار اور معاش سے متعلق عوامی خدشات اور احتجاج کا جواب سنجیدگی اور مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔