ایف بی آر کے اقدامات پر تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-08-10
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد نے حکومت کو پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور ڈی چوک پر احتجاج کی دھمکی دے دی۔ آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کی جانب سے پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کی تنصیب کے خلاف آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا۔ اجمل بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرپشن کے خاتمہ کیلیے سزائے موت کا بل پاس کیا جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجروں کو ایف بی آر کی کرپشن اورظلم سے نجات دلائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔