جاپان میں شہری نے 1800 موبائل فونز جمع کر کے محفوظ کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جاپان کے ایک شہری نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ موبائل فونز جمع کرنے کے منفرد شوق کے لیے وقف کر رکھا ہے، جس نے وقت کے ساتھ ایک غیر معمولی مجموعے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ |
اس کے پاس جدید اسمارٹ فونز نہیں بلکہ 1980 اور 1990 کی دہائی کے وہ پرانے موبائل فونز محفوظ ہیں جنہیں جاپان میں ’گاراکے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو کبھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
یہ شوق اس وقت پروان چڑھا جب جاپان میں موبائل فون عام ہونا شروع ہوئے۔ ہر نیا ماڈل، منفرد ڈیزائن اور نت نئے فیچرز اس شخص کی نظر میں محض ایک آلہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی تاریخ کا ایک اہم باب تھا، اسی لیے اس نے وقت کے ساتھ ان فونز کو محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی کے دوران کوئی ڈیزائن یا ماڈل تاریخ کی دھول میں گم نہ ہو جائے۔
جاپان میں موبائل فون بنانے والی کمپنیاں ہر سال درجنوں نئے اور منفرد ڈیزائن متعارف کراتی رہی ہیں، جن میں سے کئی فونز صرف چند مہینوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس شہری کے مجموعے میں کیمرہ فونز کے ابتدائی ماڈلز، اینٹینا والے موبائل، فولڈنگ، سلائیڈنگ اور گھومنے والے ڈیزائنز شامل ہیں، جبکہ رنگین اسکرین کے عام ہونے سے پہلے کے بلیک اینڈ وائٹ فونز بھی اس کلیکشن کا حصہ ہیں۔
اپنے شوق کو عملی شکل دیتے ہوئے اس جاپانی شہری نے گھر کے ایک حصے کو باقاعدہ ایک چھوٹے میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں موبائل فونز کو ترتیب اور سلیقے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ فونز آج بھی کام کرنے کے قابل ہیں، جبکہ کئی محض یادگار کے طور پر محفوظ کیے گئے ہیں، جو موبائل ٹیکنالوجی کے ارتقا کی ایک زندہ تصویر پیش کرتے ہیں۔
یہ انوکھا شوق نہ صرف ٹیکنالوجی سے محبت کی مثال ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں ماضی کی جدتیں بھی محفوظ کیے جانے کی حقدار ہوتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موبائل فونز جاپان میں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔