وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق پنجاب کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز کے قیام کے منصوبے پر معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔ یہ اقدام صوبے میں سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کو فروغ دینے کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
اس موقع پر سینٹرل پولیس آفس میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں ایم ڈی نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) بریگیڈیئر عظمت شبیر اور ایم ڈی سیف سٹیز اتھارٹی محمد احسن یونس نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت این آر ٹی سی 31 دسمبر 2026 تک پنجاب کی تمام 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز قائم کرے گی۔
تقریب میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، چیف آپریٹنگ آفیسر سیف سٹیز کیپٹن (ر) مستنصر فیروز، سی پی ایل او عبد اللہ احمد، ایس ایس پی سیف سٹی محمد افضل اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ این آر ٹی سی کی جانب سے جی ایم بریگیڈیئر (ر) زاہد میتلا، جنرل مینجر بریگیڈیئر (ر) شاہد منظور، جنرل مینجر سید عامر جاوید اور پراجیکٹ ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) مظفر احمد بھی شریک ہوئے۔
ایم ڈی سیف سٹی احسن یونس کے مطابق فیز ون میں ملتان، شیخوپورہ، سیالکوٹ، جہلم، اٹک، سرگودھا اور ڈی جی خان سمیت 18 شہروں میں اسمارٹ سیف سٹیز کے پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ فیز ٹو کے تحت مزید 19 شہروں میں 31 مارچ تک اسمارٹ سیف سٹیز کی تکمیل متوقع ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے رہنمائی میں تحصیل کی سطح پر سیف سٹیز کے قیام سے پنجاب میں شہری تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں اسمارٹ سیف سٹیز سیف سٹیز کے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار