نادرا نے فنگر پرنٹس کے مسئلے کا حل دیدیا، چہرے کی شناخت پر مبنی سہولت دستیاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: شہریوں کو فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی دشواریوں کو ختم کرنے کے لیے نادرا نے ایک بڑی سہولت متعارف کروا دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اب شہری چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے بزرگ شہری یا وہ افراد جنہیں طبی مسائل کی وجہ سے فنگر پرنٹس کی تصدیق میں دشواری پیش آتی تھی، آسانی سے اپنا بائیومیٹرک سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر کئی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں قومی شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم شامل ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے بائیومیٹرک کی تعریف وسیع کر دی گئی ہے اور پاک آئی موبائل ایپ پر چہرے کی شناخت سے بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اس سہولت کا آغاز 20 جنوری سے تمام نادرا مراکز میں ہوگا، جہاں شہری معمولی فیس کے عوض سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔
اگر کسی شہری کے فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہو سکے تو وہ قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جائے گا اور چہرے کی شناخت کی کارروائی مکمل ہونے پر نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ اس سرٹیفکیٹ پر تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ درج ہوگا اور یہ سرٹیفکیٹ 7 دن تک قابلِ استعمال ہوگا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نادرا اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو ضروری اقدامات کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
20 جنوری کے بعد اگر شہریوں کو کسی بھی مسئلے کا سامنا ہو تو وہ متعلقہ ادارے یا محکمے کو شکایت کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہوگی، جس سے شہریوں کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کا عمل مزید آسان اور فوری ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چہرے کی شناخت سکیں گے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔