ڈھاکا: اسمبلی ایاز صادق سے بھارتی وزیرخارجہ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ڈھاکا: اسمبلی ایاز صادق سے بھارتی وزیرخارجہ کی ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 31 December, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ (آئی پی ایس) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ڈھاکا میں بھارتی وزیرخارجہ نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات مرحومہ خالدہ ضیا کی رہائشگاہ پر ہوئی۔
سردار ایاز صادق اور جے شنکر کی ملاقات مرحومہ خالدہ ضیاکی رہائشگاہ پر ہوئی، بھارتی وزیرخارجہ خودچل کر سردار ایازصادق کی نشست پر آئے اور مصافحہ کیا، اسپیکرقومی اسمبلی سردارایاز صادق نے بھی مسکراکر جے شنکر کو جواب دیا۔
دونوں رہنماؤں کےدرمیان چندمنٹ گفتگو، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی، سردار ایاز صادق اور جے شنکرکے درمیان خیرمقدمی کلمات کا بھی تبادلہ کیا۔ خیال رہے کہ پاک بھارت جنگ کے بعد اعلی سطح پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کا پہلی بار آمنا سامنا ہوا۔
قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈھاکا میں بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالد ضیاء کی رہائش گاہ پر حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے مرحومہ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ سردار ایاز صادق نے بنگلا دیش کے سیکیورٹی ایڈوائزر اور مشیر قانون سے بھی ملاقات کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجب ایمان کو یرغمال بنا لیا جائے بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ازبکستان کا جی ڈی پی پہلی بار 145بلین ڈالر سے تجاوز کرگیا پاک چین مذاکرات، وزیر خارجہ اسحاق ڈار آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے دنیا میں سب سے پہلے کون سا ملک 2026ء میں داخل ہوگا؟ ’’اب ہم اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں‘‘جسٹس جمال مندوخیل کے کیس کی سماعت میں ریمارکس چترال: روسی شہری نے 68 ہزار ڈالر دیکر کشمیری مارخور کا شکار کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیرخارجہ ایاز صادق
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔