شفیع جان کے عظمیٰ بخاری سے متعلق پر ن لیگی رینما برہم
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
لاہور:
خیبرپختوںخوا کے معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان کے عظمی بخاری سے متعلق پر ن لیگی سخت برہم ہوگئے، عطار تارڑ نے کہا شفیع جان زبان کو لگام دیں ورنہ عزت کرانا ہمیں بھی آتا ہے، مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ بیان پی ٹی آئی کے زہریلے کلچر کی عکاسی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک روز قبل پریس کانفرنس میں معاون خصوصی کے پی شفیع جان نے عظمیٰ بخاری کی جانب سے پی ٹی آئی والوں کو جنگلی کہنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور ایک سخت بیان ان کے حوالے سے جاری کیا جس پر ن لیگی رہنماؤں نے سخت اظہار برہمی کیا ہے۔
بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں ورنہ ہمیں عزت کرانا آتا ہے، عطا تارڑ
وزیر اطلاعات عطا اللہ نے کہا کہ انتہائی گھٹیا گفتگو پہلے بھی کی گئی اور اب بھی کی جا رہی ہے، مشیر اطلاعات کے عہدے پر بیٹھے شخص کی یہ گفتگو کسی صورت نہیں ہونی چاہیے، اس کی مذمت کرتے ہوئے میں ان لوگوں کو کہوں گا کہ اپنی زبان کو لگام دیں، بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں ورنہ عزت کروانا بھی ہمیں آتی ہے۔
یہ زہریلا عمران خان کی قیادت میں تشکیل پایا ہے، مریم اورنگزیب
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے معاون خصوصی اطلاعات کے پی شفیع جان کا ٹویٹ ری ٹویٹ کیا اور کہا کہ یہ بیان پی ٹی آئی کے زہریلے کلچر کی عکاسی ہے، ایک ایسا ذہن جو عمران خان کی قیادت میں تشکیل پایا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا کلچر خواتین کو غیر انسانی بنا کر پیش کرتا ہے، تشدد کو جائز ٹھہراتا ہے اور عورت سے نفرت کو سیاسی رویے کے طور پر قبول کرتا ہے، یہ سب اتفاقیہ نہیں ہے؛ یہ سکھایا جاتا ہے، اسے فروغ دیا جاتا ہے۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ یہ نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے کہ یہ سب خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے، ایک ایسی سرزمین پر جو تاریخی طور پر خواتین کے احترام کے لیے جانی جاتی ہے۔
This is the toxic culture of PTI a mindset shaped and normalized by Imran Khan.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب شفیع جان کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔