لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ کا نیا ریکارڈ،2025میں ایک لاکھ 73ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے WhatsAppFacebookTwitter 0 31 December, 2025 سب نیوز

لاہور(سب نیوز)چیف جسٹس عالیہ نیلم کی موثر قیادت، جدید کیس مینجمنٹ اصلاحات اور اعلی عدالتی کارکردگی کے باعث 2025کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔لاہور ہائیکورٹ میں ایک سال میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے جو اسی عرصے میں دائر ہونے والے نئے مقدمات سے 16 فیصد زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں لاہور ہائیکورٹ میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 45 ہزار 748 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ اسی مدت کے دوران ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، لاہور ہائیکورٹ پرنسپل سیٹ پر 92 ہزار 505 مقدمات، ملتان بنچ پر 44 ہزار 145، بہاولپور بنچ پر 18 ہزار 415 اور راولپنڈی بنچ پر 17 ہزار 948 مقدمات کے فیصلے ہوئے۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے اس شاندار عدالتی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام میں شفافیت اور بروقت انصاف کی فراہمی لاہور ہائیکورٹ کی اولین ترجیح ہے، آٹومیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔چیف جسٹس کی خصوصی ہدایات پر سول اور فوجداری مقدمات کے ساتھ ساتھ ٹیکس مقدمات کے لیے بھی فاسٹ ٹریک پالیسی اپنائی گئی، ٹیکس مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ڈویژن بنچز تشکیل دیے گئے جبکہ کیس آڈٹ اور یکساں نوعیت کے مقدمات کو یکجا کرکے سماعت کے لیے مقرر کرنے جیسی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران لاہور ہائیکورٹ میں 6 ہزار ٹیکس مقدمات کے فیصلے کیے گئے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور تاریخی ریکارڈ ہے۔وکلا اور سائلین نے ریکارڈ عدالتی فیصلوں کو خوش آئند اور ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی ہدایات پر نافذ کی گئی جوڈیشل، کیس مینجمنٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات کے باعث عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشفیع جان کے عظمی بخاری سے متعلق بیان پر ن لیگی رہنما برہم، عطا تارڑاور مریم اورنگزیب کا شدید ردعمل شفیع جان کے عظمی بخاری سے متعلق بیان پر ن لیگی رہنما برہم، عطا تارڑاور مریم اورنگزیب کا شدید ردعمل اسحاق ڈار سے شہزادہ فہد بن سلطان کا رابطہ، پاک سعودی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق پانچوں ہائیکورٹس میں 40ایڈیشنل ججوں کی مستقلی، جوڈیشل کمیشن کے پانچ اجلاس 12تا 15جنوری کے درمیان طلب انتالیسویں سینئر منیجمنٹ کورس کیلئے گریڈ 19کے افسران کو 19جنوری 2026 کو طلب کرلیا گیا عمران خان سزا پوری کریں، مذاکرات میں رہائی پر بات نہیں ہوگی، گورنر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ڈھاکا: اسمبلی ایاز صادق سے بھارتی وزیرخارجہ کی ملاقات TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ہزار سے زائد مقدمات لاہور ہائیکورٹ کی مقدمات کے فیصلے ایک لاکھ چیف جسٹس کے لیے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود