باجوڑ میں منشیات فروشوں سے رابطے کے الزام میں 6 پولیس اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پشاور/ کراچی: باجوڑ میں منشیات فروشوں سے رابطے کے الزام میں 6 پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔ ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کے مطابق معطل پولیس اہلکار منشیات فروشوں سے پیسے وصول کرنے میں ملوث پائے گئے۔ڈی پی او باجوڑ نے بتایا کہ معطل پولیس اہلکاروں کی طویل عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کیساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں ایس آئی یو، سی آئی اے اور ٹاسک فورس نے مشترکہ کارروائی کرکے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر محمد عمران خان کے مطابق گرفتار ملزمان سے 37 غیر ملکی شراب کی بوتلیں، چار کلو چرس، 28 گرام کوکین اور 195 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔گرفتار ملزمان سے پستول اور کلاشن کوف بھی برآمد کی گئی۔ گرفتار ملزمان کی شناخت زوہیب، عبدالصمد اور شیر علی کے نام سے ہوئی۔ملزمان کے خلاف منشیات اور غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: منشیات فروشوں
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔