پنجاب، زبانی لین دین پر پابندی عائد، تمام زبانی بیع وانتقال روک دئیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
لاہور(نیوزڈیسک)اراضی ریکارڈ اور منتقلی شفاف بنانے کیلئے بورڈ آف ریونیو نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے پٹواریوں کو وراثت کی منتقلی کے سوائے تمام زبانی بیع اور انتقال سے روک دیا ، بورڈ آف ریونیو کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں زبانی لین دین پر پابندی عائد کردی گئی، زمین کی منتقلی کے انتقالات زبانی لین دین کے بجائے باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویز پر مبنی ہونے چاہئیں۔ وراثت کے معاملات کے علاوہ، کوئی بھی انتقال زبانی لین دین، بیان یا دعوے کی بنیاد پر درج یا منظور نہیں کیا جائے گا ۔
وراثت سے متعلق انتقالات واحد استثنی ہیں اور قانون کے مطابق منظور ہوتے رہیں گے ، بورڈ آف ریونیو نے احکامات دیئے کہ زمین کے حقوق کی منتقلی، بشمول فروخت، رہن، تبادلہ، اور ہبہ ایک ایسی دستاویز پر مبنی ہونی چاہیے جو دی رجسٹریشن ایکٹ انیس سو آٹھ اور دی ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ اٹھارہ سو بیاسی کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہو ۔
بورڈ آف ریونیو پنجاب نے تمام ریونیو افسران کو ہدایات پرسختی سےعمل یقینی بنانے کی ہدایت کردی ، کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قواعد کےتحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف ریونیو زبانی لین دین
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔