پنجاب میں زبانی لین دین سے زمین کی منتقلی پر مکمل پابندی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پنجاب میں اب زبانی لین دین کے ذریعے زمین کی فرد نکلوانا یا زمین منتقل کرنا ممکن نہیں ہوگا، زمین کا انتقال صرف رجسٹرڈ دستاویزات کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔
یہ نوٹیفکیشن پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعات 13(2)، 16(2)، 17 اور 42-A کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق وراثت کے کیسز کے علاوہ ہر قسم کے زمین کے انتقال کے لیے رجسٹرڈ دستاویزات لازمی ہوں گی۔ خرید و فروخت، رہن، تبادلہ یا ہبہ جیسے معاملات صرف رجسٹرڈ انسٹرومنٹ کے ذریعے ہی قابل قبول ہوں گے۔
رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت بغیر رجسٹرڈ دستاویز زمین کی منتقلی ممکن نہیں، اور ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کی دفعات 3، 54، 59، 118 اور 123 اس پر لاگو ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر رجسٹرڈ معاہدے یا اسٹامپ پیپر پر زمین کی منتقلی کو ریکارڈ میں درج نہیں کیا جا سکے گا۔
تمام ریونیو افسران کو اس نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے، اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو بھی اس حوالے سے مطلع کر دیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، تاکہ زمین کے لین دین میں شفافیت اور قانونی یقینیات کو فروغ دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: زمین کی
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔