وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہبازشریف سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عرب کے وزیراعظم و ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اپنے مضبوط عزم اور عزم کا اعادہ کیا۔
اس حوالے سے انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا جس کی بدولت دونوں ممالک ایک دوسرے مزید قریب آئے۔
وزیراعظم نے اس سال کے دوران ولی عہد شہزادہ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا جو کہ انتہائی نتیجہ خیز رہی تھیں اور پاک سعودی دوطرفہ تعلقات کو نئی سطحوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے ضرورت کے وقت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔
ملاقات میں حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سعودی سفیر نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا۔
انہوں نے مملکت سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ولی عہد شہزادہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔