2025 میں پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں میں اہم پیش رفت کی ہے اور 2025 میں کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک صرف 30 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ 2024 میں رپورٹ ہونے والے 74 کیسز کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ملک بھر کے 46 مقامات کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی، سندھ سب سے آگے
رپورٹ نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے بعد ملک میں کسی نئے پولیو کیس کی اطلاع نہیں ملی۔ مزید بتایا گیا کہ بلوچستان اور پنجاب میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو ان صوبوں میں بہتر نگرانی اور مسلسل ویکسینیشن کے اقدامات کی کامیابی کی علامت ہے۔
2025 میں ملک بھر میں 6 کامیاب انسداد پولیو مہم چلائی گئیں، جن میں سب سے حالیہ مہم میں 98 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین فراہم کی گئی۔ رپورٹ نے اسے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی محنت اور مشکل حالات میں ان کی خدمات کا ایک بڑا کارنامہ قرار دیا۔
پاکستان اب بھی دنیا کے دو ایسے ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو موجود ہے، دوسرا افغانستان ہے۔ اس سال کے 30 کیسز میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: رواں برس کی آخری قومی پولیو مہم کا آغاز، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف
پولیو کے خاتمے کے لیے قومی ٹاسک فورس نے 2025–26 کا روڈ میپ بھی منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد وائرس کی ترسیل کو روکنے کے لیے سپلیمنٹری ویکسینیشن مہمات اور معمول کی ویکسینیشن کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
polio پولیو صحت ویکسین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیو ویکسین کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند