نئے سال پر ایل پی جی 10 روپے 69 پیسے فی کلو مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستان میں سال نو کے آغاز سے قبل ہی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) 10 روپے 69 پیسے فی کلو مہنگی کردی گئی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمتوں میں یکمشت ساڑھے 11 روپے سے زائد کے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2026ء سے ہوگا، یوں 11 اعشاریہ 8 کلو گرام کا گھریلو سلنڈر 126 روپے 9 پیسے ہوا ہے۔
اوگرا اعلامیے کے مطابق ایل پی جی کی نئی فی کلو قیمت 219 روپے 68 پیسے اور گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2 ہزار 592 روپے 19 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
اس سے قبل اوگرا نے دسمبر کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 7 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا تھا۔
ایل پی جی کے 11 اعشاریہ 8 کلوگرام سلنڈر کی قیمت 87 روپے 21 پیسے بڑھائی گئی تھی، جس کے بعد اب جنوری کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایل پی جی کی فی کلو
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔