City 42:
2026-07-24@05:50:45 GMT

سال 2025 میں پاکستان کی اہم ترین اور نمایاں خبریں

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

(ویب ڈیسک)گزرا ہوا سال 2025 پاکستان کیلئے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جس میں جغرافیائی سیاست میں بڑی تبدیلیاں، خطے میں کشیدگی اور اندرونی سطح پر مسلسل چیلنجز دیکھنے میں آئے۔

 امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے لے کر بھارت کے ساتھ تقریباً جنگی صورتحال تک، پاکستان نے متعدد بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی سمت کا درست تعین کیا۔

 مذکورہ رپورٹ میں سال 2025کے تجزیوں اور اہم واقعات کی روشنی میں ان خبروں کا اختتامی جائزہ پیش کیا جارہا جن میں گزشتہ سال پاکستان کی سیاسی سفارتی اور داخلی سلامتی معاملات نمایاں رہے۔

مسلمان کھلاڑی کی نیوزی لینڈ دورہ سے قبل طوفانی سینچری،بھارتی سلیکٹرز کو کھلا پیغام

 پاک امریکہ تعلقات میں بہتری
سال 2025میں پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں نمایاں واپسی کی، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان امریکہ تعلقات میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔

 وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کو ٹرمپ منیر قربت قرار دیا گیا، جس نے دوطرفہ تعلقات کو سرد مہری سے نکال کر گرمجوشی کی جانب موڑ دیا۔

بالائی علاقوں میں بارش برفباری ؛ محکمہ موسمیات نے اہم الرٹ جاری کردیا

 امریکہ نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جنگ کے دوران کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کے کردار کو سراہا، جس کے بعد پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔

 معاشی میدان میں نایاب معدنیات اور ریفائننگ کے شعبے میں 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے طے پائے، جبکہ بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی جانب سے 1.

25 ارب ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی گئی۔

 اس کے علاوہ چین کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور جے35 جنگی طیاروں کا معاہدہ، روس کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، آذربائیجان کے ساتھ 4.6 ارب ڈالر کا جے ایف-17 طیاروں کا معاہدہ اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی نے خطے میں پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط کیا، جو کئی حوالوں سے بھارت پر سبقت کا باعث بنی۔

 دعا ہے نیا سال ملک کیلئے امن، ترقی اور خوشحالی کا پیامبر ثابت ہو' جمشید اقبال چیمہ، مسرت چیمہ

 پاک بھارت جنگ
مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان پر میزائل حملوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان شدید مسلح تصادم ہوا۔ پاکستان نے بھرپور دفاعی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کو خاص طور پر فضائی محاذ پر بھاری نقصان پہنچایا۔

 پاکستانی فضائیہ نے جدید جے10 سی طیاروں، پی ایل 15 میزائلوں اور ایچ کیو 9 فضائی دفاعی نظام کی مدد سے 7 اور 8 مئی کو ہونے والی جھڑپوں میں بھارت کے متعدد جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں رافیل جیسے جدید طیارے بھی شامل تھے۔

نیوزی لینڈ میں سال 2026 کا آغاز ہوگیا

 اس کے علاوہ پاک فوج کی بہتر حمکت عملی کی بدولت بھارتی فورسز کے ڈرونز اور میزائلوں کی بڑی تعداد کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

 اس دفاعی کامیابی کے نتیجے میں بھارت گہرائی تک پیش قدمی نہ کر سکا اور چار دن کی کشیدگی کے بعد 10مئی کو جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔

 پاکستانی قیادت اور عالمی مبصرین حتیٰ کہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بھی چین کے فراہم کردہ ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان کی فوجی کامیابی کا ذکر کیا گیا، جسے بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا۔

الوداع؛ 2025 کا آخری سورج غروب

 دہشت گردی اور داخلی سلامتی کا بحران
سال 2025 گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے لیے سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جس میں دہشت گردی کے واقعات میں 3 ہزار 300 سے زائد افراد جان سے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 ہزار 100 دہشت گرد، 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 عام شہری شامل تھے۔

 کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں، بلوچستان میں شورش اور 10 سے زائد بم دھماکوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

 مارچ میں جعفر ایکسپریس کا اغوا اور بلوچ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نمایاں واقعات رہے، سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کابل کے قریب فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

 تباہ کن سیلاب اور قدرتی آفات
سال 2025میں جون سے ستمبر تک آنے والے شدید سیلابوں نے ملک کے پانچ صوبوں کو متاثر کیا، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، زراعت اور صنعت کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ سال کے اختتام تک بھی انفراسٹرکچر کی بحالی کا عمل جاری رہا، جس نے معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا۔

 مشکلات کے باوجود معاشی پیش رفت
2025 میں پاکستان کی شرح نمو 2.6 فیصد رہی، جو 2024 کے 2.8 فیصد کے مقابلے میں کم تھی، اس کمی کی بڑی وجوہات سیلاب اور سیکیورٹی مسائل رہے تاہم ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگیاں 592 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، بیجوں کے شعبے میں اصلاحات اور معدنیات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری مثبت اشارے سمجھے گئے۔

 پی آئی اے کی نجکاری
اپریل 2025 سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نئی ملکیت میں چلی گئی، جس کے بعد برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی عمل میں آئی۔

 یہ قدم مجموعی طور پر ہوا بازی کے شعبے میں اصلاحات کا حصہ تھا۔

  کھیلوں کی دنیا میں کامیابیاں
سال 2025کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستان کے لیے یادگار رہا، پاکستان نے 1996 کے بعد پہلی مرتبہ آئی سی سی کا بڑا ایونٹ کی میزبانی کی۔

 پاکستان نے بھارت کے خلاف سیریز 6-0 سے جیتی، جبکہ لاہور قلندرز نے تیسری مرتبہ پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کیا، بابر اعظم کی 32ویں سنچری بھی سال کی نمایاں کامیابیوں میں شامل رہی۔

 اس کے علاوہ پاکستان کی انڈر 19 اور ایمرجنگ ٹیموں نے دونوں ایشیا کپ جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: میں پاکستان کے شعبے میں پاکستان کے پاکستان کی پاکستان نے میں بھارت ارب ڈالر کی بحالی کے ساتھ سال 2025 کے لیے کے بعد

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا