عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر سماعت 21 جنوری کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت 21 جنوری کو مقرر کر دی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اس کیس کی سماعت کریں گے، جو وکیل غلام مرتضیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ رجسٹرار آفس نے سماعت کے لیے کاز لسٹ بھی جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ کون استعمال کرتا ہے؟
عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی جانب سے تاحال جواب جمع نہیں کروایا گیا۔ گزشتہ سماعت پر بانی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے پاکستان بار کے الیکشن کے باعث سماعت مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
????عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست 21 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر۔جسٹس ارباب محمد طاہر وکیل غلام مرتضی خان کی درخواست پر سماعت کرینگے۔رجسٹرار آفس نے کیس 21 جنوری کو مقرر کرنے کی کازلسٹ جاری کردی۔عدالتی حکم پر عمران خان کا جواب تاحال جمع نہ ہو سکا۔گزشتہ سماعت پر بانی کے… https://t.
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) January 1, 2026
قبل ازیں، عدالتی حکم پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے جواب جمع کرواتے ہوئے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کی جیل سے آپریشن ہونے کی تردید کی تھی۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ پنجاب کے نام خط، مندرجات کیا ہیں؟
درخواست گزار غلام مرتضیٰ خان کی نمائندگی میں بیرسٹر ظفر اللہ عدالت میں پیش ہوں گے۔ سماعت کے دوران دونوں جانب کے دلائل سنے جائیں گے اور عدالتی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس ارباب محمد طاہر وزیراعظم عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ارباب محمد طاہر وزیراعظم عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ عمران خان کا ایکس ایکس اکاؤنٹ کی درخواست جنوری کو کرنے کی خان کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔