امریکا میں تاریخ رقم، قرآن پر حلف اٹھا کر زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تاریخ کے پہلے مسلم میئر بن گئے ہیں۔
34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما نے اپنی چار سالہ مدت کا آغاز آدھی رات کے فوراً بعد سٹی ہال کے نیچے واقع ایک بند سب وے اسٹیشن میں ایک سادہ تقریب کے دوران کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق زہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے قرآن پاک کے دو نسخوں پر حلف اٹھایا، جن میں ایک ان کے دادا کا ذاتی نسخہ اور دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر سے لیا گیا تھا۔
حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کے لیے ایک اعزاز اور زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سادہ مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے وابستگی اور عوامی ٹرانسپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔
مزید پڑھیںامریکا میں نئی تاریخ رقم، زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب
نیویارک سے موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگیا، زہران ممدانی کا میئر الیکشن جیتنے کے بعد پہلا خطاب
اس تقریب میں نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے انہیں حلف دلایا جبکہ ان کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ممدانی کے والدین، معروف فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی بھی اس موقع پر شریک تھے۔
زہران ممدانی کی باضابطہ اور عوامی حلف برداری کی تقریب بعد میں سٹی ہال کے باہر منعقد کی جائے گی، جس میں سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
زہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، کرایوں میں اضافے اور شہری سہولتوں کو مرکزی نکتہ بنایا تھا۔ انہوں نے کرایوں میں اضافے پر پابندی، مفت بس سروس اور بچوں کی نگہداشت کی سہولتوں کا وعدہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیویارک کے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔