کیماڑی میں مبینہ پولیس مقابلے کے بعد منشیات و اسلحہ فروش گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ضلع کیماڑی کے علاقے پاک کالکونی میں مبینہ پولیس مقابلے کے بعد پولیس نے منشیات و اسلحہ فروش سمیت ڈکیتی کے ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقابلے میں گرفتار مقابلے میں ملزمان نے پولیس پرفائرنگ کی۔ ملزمان قتل جسے متعدد سنگین مقدمات ملوث ہیں۔
ضلع کیماڑی کے علاقے پاک کالکونی میں پولیس اورمنشیات فروشوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں زخمی سمیت متعدد ملزمان گرفتار کیے۔ ملزمان کی شناخت علی بخش اورفرید کے ناموں سے کی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ ، آدھا پاؤ کے قریب منشیات آئس اورچاکیواڑہ کی مسروقہ موٹرسائیکل بھی برآمد کی گئی۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا۔
گرفتار ملزمان پراسلحے، منشیات،ڈکیتی، پولیس پر فائرنگ اور قتل جسے متعدد سنگین مقدمات درج ہیں، گرفتار ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرفتار ملزمان
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔