ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں شدید کمی، پہلی ششماہی میں 321 ارب کا شارٹ فال
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں ٹیکس وصولیوں کے محاذ پر شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر تک کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر مقررہ اہداف حاصل کرنے میں بری طرح پیچھے رہ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف دسمبر 2025 میں ہی ایف بی آر کو تقریباً 21 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ماہ مجموعی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں 1425 ارب روپے رہیں جب کہ ہدف 1446 ارب روپے مقرر تھا۔ اس طرح سال کے اختتام پر بھی ٹیکس وصولیوں کی رفتار توقعات کے مطابق نہ رہ سکی۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر کی پہلی ششماہی میں ایف بی آر کی مجموعی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں 6169 ارب روپے رہیں جب کہ مقررہ ہدف 6490 ارب روپے تھا۔ اس طرح مجموعی شارٹ فال 321 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو پہلے 5 ماہ کے 315 ارب روپے کے خسارے سے بھی زیادہ ہے۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر کے حتمی اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد شارٹ فال میں معمولی کمی ممکن ہے، تاہم مجموعی صورتحال بدستور تشویشناک دکھائی دے رہی ہے۔ اس نمایاں کمی کے باعث ایف بی آر کے لیے رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 13.
واضح رہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد حکومت نے آئی ایم ایف کو قائل کر کے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے سے کم کر کے 13.9 ٹریلین روپے مقرر کروایا تھا، مگر مسلسل شارٹ فال نے اس نظرثانی شدہ ہدف کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق رواں مالی سال میں صرف جولائی 2025 وہ واحد مہینہ رہا جب ٹیکس وصولیاں ہدف سے زیادہ تھیں۔ جولائی میں 748 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 757 ارب روپے وصول کیے گئے جب کہ اس کے بعد اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں ہر ماہ ہدف سے کم ریونیو اکٹھا ہوا۔
ماہرین کے مطابق ٹیکس نیٹ میں کمی، معاشی سست روی اور انتظامی مسائل اس مسلسل شارٹ فال کی بڑی وجوہات ہیں، جو آنے والے مہینوں میں حکومت کے لیے مزید مالی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ٹیکس وصولیوں ایف بی آر ارب روپے شارٹ فال کے مطابق روپے کے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔