Islam Times:
2026-07-24@15:08:03 GMT

سعودی عرب کا یمن میں امارات کو شکست دینے کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

سعودی عرب کا یمن میں امارات کو شکست دینے کا دعویٰ

اسلام ٹائمز: اماراتی یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی تجزیہ کار عبدالخالق عبداللہ نے یمن میں مکلا بندرگاہ پر اماراتی فوجی سازوسامان کو نشانہ بنائے جانے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ جنوبی عرب کے ایک بندرگاہ پر کھلا فوجی حملہ نہ تو شجاعت کی علامت ہے اور نہ ہی باعثِ فخر۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اپنی قانونی مدت پوری کر چکے ہیں، اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں اور ان کے بیانات کی جگہ کوڑے دان کے سوا کہیں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابوظبی جنوبی عبوری کونسل کی حمایت جاری رکھے گا۔ خصوصی رپورٹ: 

سعودیہ کے سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک متنازع پوسٹ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یمن میں امارات کا کیس بند کر دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق سعودی عرب کے ٹی وی نیٹ ورک الاخباریہ نے ایکس پر لکھا کہ سال کے اختتام سے ایک دن قبل، قانونی حکومت کے حامی اتحاد نے یمن میں امارات کا پرونده بند کر دیا۔ یہ متنازع پوسٹ مختصر وقت میں ہی غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گئی اور اس کے نیچے سینکڑوں تبصرے سامنے آئے، جن میں درجنوں صارفین نے سعودی عرب کی حمایت یا امارات پر تنقید اور اس کے برعکس آراء کا اظہار کیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس کے فوجی دستے طے شدہ اور باضابطہ معاہدوں کے تحت دی گئی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد، 2019 میں یمن میں اپنی فوجی موجودگی کا خاتمہ کر دیں گے۔ یمنی ذرائع نے بھی اطلاع دی ہے کہ امارات کے سینکڑوں فوجیوں اور بھاری فوجی سازوسامان سے لدے چار فوجی کارگو طیارے مکلا ایئرپورٹ سے روانہ ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے مکلا بندرگاہ میں اماراتی فوجی سازوسامان پر فضائی حملے اور اس کے بعد یمن میں امارات کے منفی کردار کے خلاف سعودی وزارت خارجہ کے سخت لہجے والے بیان میں جو دونوں ہی غیر معمولی اور بے مثال تھے، ان کے بعد، میڈیا میں بھی یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

سعودی حکومت کے قریب سرکاری ذرائع ابلاغ نے یمن کے حالیہ بحران کی کوریج کے دوران ان پیش رفتوں کو سعودی عرب کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں سعودی میڈیا کے اہم ادارے عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ریاض، مشرقی یمن میں پیش قدمی کے لیے جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے امارات کے اقدامات سے مایوس ہو چکا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ اقدامات اتحاد کے اصولوں اور مقاصد کے منافی ہیں اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کی روح سے ہم آہنگ نہیں۔ اسی سلسلے میں اخبار الشرق الاوسط نے یمن میں جنوبی عبوری کونسل پر امارات کے دباؤ سے سعودی عرب کی مایوسی کے عنوان سے ابوظبی کے اقدامات کو ریاض کے لیے سکیورٹی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔

یہ اخبار، جو سعودی عرب کے سرکاری مؤقف کا عکاس سمجھا جاتا ہے، لکھتا ہے کہ سعودی عرب ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ اس کے سابق اتحادی اس کے قومی مفادات کو خطرے میں ڈالیں۔ الشرق الاوسط نے یمن کے بحران کے حل کے لیے جامع سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اماراتی اقدامات کو ناقابلِ جواز قرار دیا ہے۔ میڈیا ردِعمل کے تناظر میں، سعودی تجزیہ کاروں، اینکرز اور کالم نگاروں نے ان واقعات کو خلیج فارس کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ العربیہ کے سابق اینکر اور معروف سعودی مصنف ترکی الدخیل نے ایکس پر اپنے پیغام میں اماراتی اقدامات کو اتحادی اہداف سے انحراف قرار دیا

 انہوں نے خبردار کیا کہ اس روش کا تسلسل پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی اولین ترجیح اپنی سرحدوں کا تحفظ ہے اور علیحدگی پسند دھڑوں کی کسی بھی بیرونی حمایت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سعودی یمنی تجزیہ کار ہشام العمیسی نے بھی ایکس پر لکھا کہ سعودی عرب کا حالیہ بیان غیر معمولی، کشیدہ اور معنی خیز ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحران ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے یمن میں فریقین میں سے کسی ایک کی بھی اماراتی حمایت روکنے کا مطالبہ کیا اور پیش گوئی کی کہ یہ دراڑ اتحاد کے مستقبل پر سنگین اثرات ڈالے گی۔

اماراتی تجزیہ کاروں کا سخت ردعمل:
اس کے برعکس، اماراتی یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی تجزیہ کار عبدالخالق عبداللہ نے یمن میں مکلا بندرگاہ پر اماراتی فوجی سازوسامان کو نشانہ بنائے جانے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ جنوبی عرب کے ایک بندرگاہ پر کھلا فوجی حملہ نہ تو شجاعت کی علامت ہے اور نہ ہی باعثِ فخر۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اپنی قانونی مدت پوری کر چکے ہیں، اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں اور ان کے بیانات کی جگہ کوڑے دان کے سوا کہیں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابوظبی جنوبی عبوری کونسل کی حمایت جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو جاننا چاہیے، ان کے لیے پیغام ہے کہ امارات اپنے حامیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور اپنے اتحادیوں سے دستبردار نہیں ہوتا۔ اسی طرح ابو ظہبی پولیس کے سابق نائب کمانڈر ضاحی خلفان نے بھی سخت لہجے میں سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ خدا کی رضا کا باعث بنتا ہے اور نہ ہی اس کے بندوں کی خوشنودی کا۔ انہوں نے سعودی حملے اور وزارت خارجہ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں اماراتی فوج کے یمن سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا، کہا کہ اس ضرب کے بعد شمال بھی ہاتھ سے گیا اور جنوب بھی ہاتھ سے گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنوبی عبوری کونسل فوجی سازوسامان یمن میں امارات سعودی عرب کی قرار دیا ہے بندرگاہ پر امارات کے کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اور اس ہے اور کے لیے کہا کہ عرب کے کے بعد

پڑھیں:

10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے

 حکومت نے شہریوں کو اپنے گھروں کی مرمت، بہتری اور توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے مقصد سے "اپنی چھت، محفوظ چھت" پروگرام 2026 شروع کر دیا ہے، جس کے تحت اہل افراد کو 5 سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔حکومتی منصوبے کے تحت قرضوں کی فراہمی دو مختلف کیٹیگریز میں کی جائے گی۔ پہلی کیٹیگری میں وہ شہری شامل ہوں گے جو اپنے موجودہ گھروں کی چھتوں کی مرمت یا بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ انہیں 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جس کی واپسی 9 سال کے عرصے میں ماہانہ تقریباً 4 ہزار 700 روپے کی اقساط کی صورت میں کرنا ہوگی۔ دوسری کیٹیگری ان افراد کے لیے ہے جو اپنے گھروں کی توسیع، مثلاً دوسری منزل کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، جس کی واپسی بھی 9 سال میں ماہانہ تقریباً 9 ہزار 300 روپے کی اقساط کے ذریعے کی جائے گی۔ آن لائن درخواست دینے کا طریقہ خواہش مند شہری "اپنی چھت، محفوظ چھت" لون اسکیم کے لیے آن لائن درخواست پنجاب حکومت کے متعلقہ پورٹل acag.punjab.gov.pk کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں کو رجسٹریشن کے لیے اپنی ضروری دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ وہ شہری جو آن لائن درخواست دینے کی سہولت استعمال نہیں کر سکتے، وہ اپنی درخواستیں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی