اسلام آباد:

وزیراعظم نے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لیے سفارشات طلب کرلیں اور ہدایت دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے برآمدات کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نئے سال کے پہلے دن وزیراعظم کی زیر صدارت معیشت سے متعلقہ تمام وزارتوں میں جاری انتظامی، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ،  وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، مشیر رانا ثناء اللہ،  معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل کوآرڈی نیٹرز، ایس آئی ایف سی کے حکام اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزارتیں اپنے شعبوں سے متعلقہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سفارشات جلد از جلد مرتب کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات پر مبنی معاشی گورننس کی پالیسی پر تمام وزارتوں کی طرف سے مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے، سرمایہ کاروں کی آسانی کے لیے ادارہ جاتی اور انتظامی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لئے سفارشات طلب کرلیں اور ہدایت دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے برآمدات کے شعبے کی ترویج کی تجاویز اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے، موثر معاشی اصلاحات اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے تمام وزارتوں کی باہمی ہم آہنگی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون کلیدی کردار رکھتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے متعلقہ وزارتیں دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے  بیرونی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مؤثر تعاون کریں، سرمایہ کاری کے لیے پاکستانی سفارت خانوں میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات اور دیگر اہم معلومات کی ابتدائی آگاہی کو یقینی بنایا جائے، وزارتیں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے صنعتی پیداوار، زراعت اور دیگر تمام اہم شعبوں پر یکساں توجہ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں بیرونی اور

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر