سندھ کے مفادات کیلیے تمام قوتوں کو متحد ہونا ہوگا، سردار رحیم
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-10
کراچی ( اسٹاف ر پورٹر) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری جنرل اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے کہا ہے کہ سندھ کے مفادات کے تحفظ اور حقوق کے حصول کے لیے تمام قوم پرست، جمہوری اور عوامی قوتوں کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہو کر اتحاد کرنا ہوگا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی نصاب میں شہید سورھیہ بادشاہ کی تحریکِ آزادی اور قربانیوں کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل کو سندھ کی حقیقی جدوجہد سے آگاہ کیا جا سکے۔ کراچی پریس کلب میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) کے زیرِ اہتمام سندھ نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہید سورھیہ بادشاہ نے برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، مگر افسوس کہ انگریزوں نے جاتے جاتے اپنے ایجنٹوں کو اقتدار میں لا کر اس خطے پر مسلط کر دیا، جن کا تسلط آج تک قائم ہے۔سردار عبدالرحیم نے کہا کہ شہید سورھیہ بادشاہ کا انقلابی جذبہ آج بھی پاکستان مسلم لیگ فنکشنل میں زندہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت پارٹی کی سید صدرالدین شاہ راشدی ہمیشہ یہ بات دہراتے ہیں کہ جب تک ہمارے سندھڑی تکلیفوں میں ہے اس وقت تک خاموش اور آرام سے ہم کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ کانفرنس میں شریک رہنماؤں اور کارکنوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ قومی تعلیمی نصاب میں شہید سورھیہ بادشاہ کی جدوجہد، قربانیوں اور تحریکِ آزادی کو شامل کیا جائے۔اس موقع پر سردار عبدالرحیم نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام نے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریائے سندھ پر متنازع کینالوں کے منصوبے کو مسترد کروایا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سندھ کے عوام متحد ہوتے ہیں تو کوئی بھی عوام دشمن منصوبہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔