سونا مزید سستا ہوگیا؛ قیمتوں میں آج مسلسل تیسرے دن کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
کراچی:
سونے کی قیمتوں میں آج مسلسل تیسرے دن کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
سال 2026 کے پہلے دن (جمعرات کو) عالمی مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل برقرار رہا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 24ڈالر کی کمی سے 4ہزار 322ڈالر کی سطح پر آگئی۔ جس کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 2ہزار 400روپے کی کمی سے 4لاکھ 54ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2ہزار 058روپے کی کمی سے 3لاکھ 89ہزار 713روپے کی سطح پر آگئی۔
دریں اثنا فی تولہ چاندی کی قیمت 83روپے کی کمی سے 7ہزار 635روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 71روپے کی کمی سے 6ہزار 545روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت کی کمی سے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔