شہباز شریف اور سی ڈی ایف کی پارٹنر شپ نے جنگ جیتی، دور دور تک ایسا کوئی باؤلر نظر نہیں آتا جو اس جوڑی کی وکٹ لے سکے ، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہےکہ بھارتی وزیرخارجہ کا مصافحہ اللہ کرے اخلاص والا ہو، منافقت والا نہ ہو، شہباز شریف اور سی ڈی ایف کی پارٹنر شپ رزلٹ دے رہی ہے، اسی پارٹنرشپ نے بھارت سے جنگ جیتی اور معیشت بہترکی، مجھے دور دور تک ایسا کوئی بولر نہیں لگتا جو اس جوڑی کی وکٹ لے سکے۔ایک انٹرویو میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسی پارٹنرشپ نے سفارت کاری کو عروج پر پہنچایا ہے، اللہ کرے یہ جوڑی اسی طرح وکٹ پرکھڑی رہے اورپاکستان کے لیے رنزبنتے رہیں۔
پاکستان سپر لیگ کےلئے نئی فرنچائزز کی بیس پرائز کیا ہوگی ؟ تفصیلات سامنے آگئیں
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کی یا وزیراعظم کی کوئی انا نہیں، ہماری انا سے پاکستان کے مسائل اور پاکستان کا مفاد بڑا ہے، جب بھارت نے حملہ کیا تو ہم نے کوشش کی کہ سب کو آن بورڈکیا جائے۔وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرخارجہ کا مصافحہ اللہ کرے اخلاص والا ہو، منافقت والا نہ ہو، اس سے پہلے بھارت نے جتنے بھی مصافحےکیے ہیں وہ سب منافقت والے تھے، یہ وہی بھارت ہے جو کھیلوں کے میدان میں بھی ہم سے ہاتھ نہیں ملاتا تھا، بھارت دنیا کو کہتا تھا کہ ہم ان کے ساتھ اس لیے نہیں بیٹھتےکہ یہ ہمارے ہم پلہ نہیں، مئی کی جنگ نے دنیا میں ہر چیز بدل دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت الحمدللہ پوری دنیا میں پاکستان کا بھارت سے زیادہ وزن ہے، بھارت بین الاقوامی طورپرنہ صرف جنگ ہارا بلکہ اس کے بیانیے کو بھی شکست ہوئی، پہلگام کی بات کریں پلوامہ کی بات کریں یہ سب بی جے پی کی سازش تھی۔
2025 معاشی اعتبار سے ایک بدترین سال ثابت ہوا،جس نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا،حافظ فرحت عباس
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ طلال چوہدری
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔