الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کو گوشوارے جمع کرنے کے لئے ڈیڈلائن دیدی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کے گوشوارے جمع کرانے کے لئے 16 جنوری کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ ڈیڈ لائن تک 446 اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی نے گوشوارے جمع نہیں کرائے ہیں اور16 جنوری 2026 تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق ہر سال 31 دسمبر تک اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے لازمی ہوتے ہیں۔ انتخابی قانون 2017 کی شق 137 کے تحت 15 جنوری تک ان ارکان کو مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے گوشوارے جمع کرائیں تاہم اس میں ناکام رہنے والے اراکین کی رکنیت 16 جنوری سے معطل کر دی جاتی ہے لیکن گوشوارے جمع کرانے پر ان کی رکنیت بحال کر دی جاتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سینیٹ کے 26، قومی اسمبلی کے 125، پنجاب اسمبلی کے 159، سندھ اسمبلی کے 62، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 48 اور بلوچستان اسمبلی کے 26 اراکین کی جانب سے ان کے اپنے اور زیر کفالت افراد کے مالی سال 25-2024 کے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہیں کرائے گئے ہیں لہٰذا 16 جنوری 2026 سے ان ارکان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن گوشوارے جمع اسمبلی کے کی رکنیت
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔