شہبازحکومت کےدورمیں معیشت کابھرکس نکل گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
لاہور: شہباز حکومت کے دور میں پاکستان کی معیشت کا بھرکس نکل گیا، ملکی معیشت کے حجم میں 761 ارب روپے کی انتہائی تشویشناک کمی ہو جانے کا انکشاف۔
گزشتہ مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ معاشی اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں 761 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،گزشتہ مالی سال معیشت کا حجم 113.
93 کھرب روپے رہا،پہلی معیشت کے حجم کا تخمینہ 114.69 کھرب روپے لگایا گیا تھا۔
امریکی ڈالرمیں ملکی معیشت کامجموعی حجم 407.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، اکتوبر میں ملکی معیشت کا تخمینہ 407.2 ارب ڈالرزتھا۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ سال مقامی کرنسی میں فی کس آمدن بڑھ کر 5 لاکھ 6 ہزار736 روپے ہوگئی، اس سے پہلے سالانہ فی کس آمدن کا تخمینہ 5 لاکھ 6 ہزار 188 روپے تھا۔
امریکی ڈالر میں فی کس آمدن 1824 سے کم ہوکر 1814 ڈالر رہی،2023 کی مردم شماری کے بعد فی کس آمدن کے اعدادوشمار میں نظرثانی ہوگی،آبادی کے نئے تخمینوں پر گزشتہ 10 سال میں فی کس آمدن کا ڈیٹا دوبارہ مرتب ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ملکی معیشت فی کس آمدن معیشت کا کی معیشت
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے کیا گیا ہے جو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک نافذ العمل ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔