Al Qamar Online:
2026-06-03@02:11:16 GMT

شہبازحکومت کےدورمیں معیشت کابھرکس نکل گیا

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

شہبازحکومت کےدورمیں معیشت کابھرکس نکل گیا

لاہور: شہباز حکومت کے دور میں پاکستان کی معیشت کا بھرکس نکل گیا، ملکی معیشت کے حجم میں 761 ارب روپے کی انتہائی تشویشناک کمی ہو جانے کا انکشاف۔

 گزشتہ مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ معاشی اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں 761 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،گزشتہ مالی سال معیشت کا حجم 113.

93 کھرب روپے رہا،پہلی معیشت کے حجم کا تخمینہ 114.69 کھرب روپے لگایا گیا تھا۔

 امریکی ڈالرمیں ملکی معیشت کامجموعی حجم 407.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، اکتوبر میں ملکی معیشت کا تخمینہ 407.2 ارب ڈالرزتھا۔

دستاویز کے مطابق گزشتہ سال مقامی کرنسی میں فی کس آمدن بڑھ کر 5 لاکھ 6 ہزار736 روپے ہوگئی، اس سے پہلے سالانہ فی کس آمدن کا تخمینہ 5 لاکھ 6 ہزار 188 روپے تھا۔

امریکی ڈالر میں فی کس آمدن 1824 سے کم ہوکر 1814 ڈالر رہی،2023 کی مردم شماری کے بعد فی کس آمدن کے اعدادوشمار میں نظرثانی ہوگی،آبادی کے نئے تخمینوں پر گزشتہ 10 سال میں فی کس آمدن کا ڈیٹا دوبارہ مرتب ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ملکی معیشت فی کس آمدن معیشت کا کی معیشت

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ