2025: پاک بھارت تعلقات میں سرد مہری کا سال
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
لاہور:
سال 2025 پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے لیے کشیدگی، سفارتی تعطل اور محدود رابطوں کا سال ثابت ہوا۔
تعلقات میں سرد مہری کا سب سے نمایاں اثر دونوں ملکوں کے درمیان واحد فعال زمینی گزرگاہ واہگہ بارڈر پر پڑا، پورے سال کے دوران یہ سرحدی گزرگاہ یا تو مکمل طور پر بند رہی یا محدود بنیادوں پر جزوی طور پر فعال رہی جس کے باعث سفر، تجارت، مذہبی یاترا اور عوامی روابط شدید متاثر ہوئے۔
سال کے آغاز میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی روزانہ کی تقریب معمول کے مطابق جاری رہی، تاہم اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک بڑے سکیورٹی واقعے کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔
اس واقعے کے بعد بھارت نے بغیر تحقیقات پاکستان پر الزامات عائد کیے اور سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا جس کے نتیجے میں ویزا سہولیات معطل، سفارتی روابط محدود اور اٹاری واہگہ سرحدی گزرگاہ بند کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
جواباً پاکستان نے بھی بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی سخت کرتے ہوئے واہگہ بارڈر کے ذریعے عام شہریوں کی آمدورفت معطل کردی۔ اپریل کے اختتام تک یہ گزرگاہ عملی طور پر بند ہوگئی۔ پاک بھارت کشیدگی مئی میں اس وقت مزید بڑھ گئی جب بھارت نے پاکستان کے مختلف علاقوں پر میزائل حملے کیے، جسے بھارتی حکومت نے آپریشن سندور کا نام دیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان 7 سے 10 مئی تک مختصر مگر شدید فوجی تصادم ہوا۔ پاکستان نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے مؤثر دفاعی کارروائی کی اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران متعدد بھارتی طیارے مارگرائے جو پاکستان کی ایک تاریخی فتح ہے۔
سیاسی اور سفارتی تعطل پورے سال برقرار رہا۔ 2025 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کا آغاز نہ ہو سکا۔ ویزا، تجارت اور سرحدی انتظامات سے متعلق فیصلے جمود کا شکار رہے، جس کا براہ راست اثر واہگہ بارڈر کی فعالیت پر پڑا جبکہ کرتارپور کوریڈور بھی بند ہے۔
بارڈر بندش کے باعث سیاحت، خاندانی ملاقاتیں، شادی بیاہ اور ثقافتی روابط تقریباً معطل رہے۔ مئی سے قبل روزانہ کی بنیاد پر آنے والے سیاحوں کی تعداد تصادم کے بعد صفر ہوگئی۔ مجموعی طور پر 2025 میں واہگہ بارڈر پر سیاحوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ اگست میں یوم آزادی کے موقع پر دونوں جانب پریڈ کی تقریبات منعقد ہوئیں تاہم شائقین کی تعداد محدود رہی اور کئی دنوں تک تقریبات معطل بھی رہیں۔
مذہبی یاترا بھی کشیدہ حالات سے متاثر ہوئی۔ 5 جنوری 2025 کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس کی تقریبات میں شرکت کے لئے 102 پاکستانی زائرین انڈیا گئے، اسکے بعد 12 اپریل کو امیرخسرو ؒ کے عرس میں شرکت کے لئے بھارت کی طرف سے 188 پاکستانی زائرین کو ویزے جاری ہوئے۔ پاکستان نے اپریل 2025 میں 326 ویں خالصہ جنم دن /بیساکھی کے موقع پر 6700 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کئے، اس کے بعد نومبر میں بابا گورو نانک کے 556 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لئے 2100 بھارتی یاتری پاکستان آئے تھے۔
قیدیوں کے تبادلے اور سزا مکمل کرنے والے شہریوں کی واپسی کا عمل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محدود پیمانے پر جاری رہا۔ پاکستان نے فروری 2025 میں 22 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کیا، اس کے بعد 14 مئی کو پاکستان نے ایک بی ایس ایف اہلکار اور انڈیا نے ایک رینجرز اہلکار کو رہا کیا۔9 ستمبر کو انڈیا نے 67 پاکستانی رہا کئے جن میں 19 سویلین اور 48 ماہی گیرتھے۔ اس کے علاوہ 29 نومبر کو انڈیا نے تین پاکستانیوں کو رہا کیا تھا۔
سال 2025 میں پاکستان کے راستے افغان بھارت ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بڑی حد تک معطل رہی۔ سکیورٹی خدشات اور علاقائی صورتحال کے باعث یہ تجارتی راستہ بند رکھا گیا، تاہم پاکستان نے محدود مدت کے لیے انسانی اور تجارتی ضرورت کے تحت جزوی ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دی جس کے بعد دوبارہ سے ٹرانزٹ ٹریڈ بند کردی گئی۔
پاک بھارت کشیدہ تعلقات اور واہگہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں ختم ہونے سے مقامی لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے ان کے لئے پاکستان کی عزت اور وقار، ان کے روزگار سے بڑھ کر ہے۔
ایک شہری عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہمسایہ ملک سے اچھے تعلقات ہونے چاہیں لیکن یہ تعلقات برابری کی بنیاد پر چاہتے ہیں۔ جب تک بھارت پاکستان میں اسپانسرڈ دہشت گری بند نہیں کرتا اسکے ساتھ تعلقات بحال نہیں ہونے چاہئیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل واہگہ بارڈر پر پاکستان نے کے درمیان کے بعد کے لئے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔