Jasarat News:
2026-07-24@05:08:41 GMT

کپاس برآمدات کی منظوری کا اختیار ٹڈاپ کو مل گیا

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے کپاس کی برآمدات کی منظوری کا اختیار ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ) سے منتقل کر کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو دینے کا فیصلہ غیرملکی زرِ مبادلہ کی بروقت وصولی، معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور قیمتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک کو کپاس کی پیداوار میں 70 سے 80 لاکھ بیلز کی کمی کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں عارف حبیب کموڈٹیز کے سی ای او احسن محنتی نے بتایا کہ ٹڈاپ برآمدات سے حاصل ہونے والے غیر ملکی زرِمبادلہ کے حصول کی نگرانی کرنے سے قاصر تھا کیونکہ یہ ادارہ فارن ایکسچینج آپریشنز کو مینج نہیں کرتا۔احسن محنتی نے کہا کہ برآمدی رقم کی بروقت وصولی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب نگرانی ضروری ہے جو اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں آتی ہے کیونکہ وہی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد اور برآمدی ری فنانس کے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ دریں اثنا اے کے ڈی سیکورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر محمد اویس اشرف نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کا ایک مسئلہ درپیش تھا جسے ٹڈاپ حل نہیں کر پا رہا تھا، اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔اویس اشرف کے مطابق پاکستان کو کپاس کی 70 سے 80 لاکھ بیلز کی کمی کا سامنا ہے اور ملک اس فرق کو درآمدات کے ذریعے پورا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ مسابقتی قیمتیں حاصل کرنے کے لیے سپلائرز تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ایکویٹی ریسرچ وقاص غنی نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹڈاپ کوئی مالیاتی ریگولیٹر نہیں بلکہ ایک تجارتی فروغ دینے والا ادارہ ہے۔وقاص غنی نے مزید کہا کہ نگرانی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر کے حکومت برآمدی معاہدوں کی درست جانچ پڑتال، ذمہ داریوں کے نفاذ اور معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سیکیورٹی ڈپازٹ کی ضبطگی کے ذریعے جرمانے کو یقینی بنا رہی ہے۔ پاکستان میں کپاس کی پیداوار 2025-26 کے سیزن میں تیزی سے گرکر 68 لاکھ (6.

8 ملین) گانٹھوں تک رہ گئی جو کہ 1.01 کروڑ (10.18 ملین) گانٹھوں کے مقررہ ہدف سے 34 فیصد کم ہے۔اس سے قبل اپریل میں منعقدہ فیڈرل کمیٹی آف ایگریکلچر (ایف سی اے) کے اجلاس میں 22 لاکھ ہیکٹر رقبے سے 1.01 کروڑ (10.18 ملین) گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، اس سال کپاس صرف 20 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت کی گئی، جو کہ مقررہ ہدف سے 11.5 فیصد کم ہے۔کمی کی وجوہات متعدد چیلنجز ہیں، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، غیرمتوقع بارشیں اور سیلاب، سفید مکھی اور پنک بول ورم جیسے کیڑوں کے حملے، چلی لیف کرل وائرس (، محدود بیج ٹیکنالوجی اور دیگر فصلوں کے ساتھ مقابلہ شامل ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کپاس کی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم