سندھ حکومت کی نا اہلی ‘2025 بھی اہل کراچی کیلیے اذیت کا سال رہا ، سیف الدین
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-17
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اپوزیشن لیڈرکے ایم سی اور نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے 2025ء کے اختتام پر ایک بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے 17سالہ بدترین دور ِ حکمرانی کے باعث گزشتہ سالوں کی طرح2025ء بھی کراچی کے شہریوں کے لیے پریشانیوں ، اذیتوں اور المیوں کا سال رہا ، اہل کراچی کو اربوں روپے کے بجٹ اور سارے اختیارات اپنے پاس رکھنے کے باوجود سندھ حکومت اور کے ایم سی سے کوئی بھی ریلیف اورسہولت نہ مل سکی ، واٹر کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ جو حکومت سندھ کے ادارے اور میئر کراچی کے ماتحت ہیں ‘کی نا اہلی نے کراچی کو کچرے خانے اور غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ، حکومت سندھ اور قابض میئر کراچی شہریوں کاایک مسئلہ بھی حل نہ کر سکے ، کراچی کے شہری تاحال پانی سے محروم ہیں اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں ، کراچی بھر جگہ جگہ سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے ، گٹر کھلے ہیں اور بچے اور بڑے ان کھلے گٹروں اور نالوں میں گر کر جاں بحق ہو رہے ہیں ، گزشتہ سال کئی بچوں سمیت 27 شہری کھلے گٹر اور نالوں کا شکار بنے لیکن میئر جو کے ایم سی اور واٹر بورڈ دونوں کے سربراہ ہیں ذمے داری لینے کے بجائے الزام تراشی میں مصروف نظر آئے اور نہ کسی ذمے دار کو سزا دی گئی ، کراچی کے شہر ی گزشتہ کئی سالوں کی طرح 2025ء میں بھی خونی ڈمپر وٹینکر اور دیگر حادثات کا شکار بنتے رہے ، 850کے قریب شہری ان حادثات میں جاں بحق ہوئے اور 12ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ، اسی طرح امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہوئی ، موٹر سائیکل اور موبائیل چھیننے کی وارداتیں اور شہریوں کے ڈاکوئوں کی گولیوں کا شکار ہونے کے واقعات تھم نہ سکے ، پورے کراچی میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران ناجائز اور مخدوش تعمیرات کی سرپرستی کرتے رہے اور ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں ، شہریوں کے پلاٹوں اور مکانات پر قبضوں کی وارداتیں بھی بڑھ گئیں ، گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی کو آپریٹو ڈپارٹمنٹ اور ریونیو بورڈ کی مدد سے جعلی کاغذات کے ذریعے شہری اپنی زندگی بھر کی کمائی سے محروم ہو تے رہے ، دوسری جانب حکومت اور کے ایم سی نت نئے طریقوں کے ذریعے شہریوں سے رقوم بٹورنے میں لگی رہی ، کبھی نمبر پلیٹ کی آڑ میں اور کبھی ای چالان کے نام پر شہریوں سے بھاری رقومات وصولی کی جارہی ہیں ،میئر کراچی کو ئی وژن دینے کے بجائے مسخرہ پن اور اخلاق سے گری گفتگو میں لگے رہے ،ایم یوسی ٹی کے نام پر کے ایم سی لوٹ رہی ہے ، شہر جل رہا ہے اور حکومتی اہلکار اور شہر کا میئر میوزیکل پروگرامات اور آتش بازی میں مصروف ہیں ، 17سالہ پی پی حکومت نا اہلی اور کرپشن کا شاہکار ہے ،ان حالات میں جماعت اسلامی نے شہریوں کے مسائل کے حل اور ان کے حق کے لیے آواز اُٹھانے کا بوجھ تن تنہا اٹھا رکھا ہے اور ہم آئندہ بھی یہ کام جاری رکھیں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہریوں کے کے ایم سی کراچی کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔