مہنگائی میں کمی سے متعلق حکومت کے اشاریے گمراہ کن اور جھوٹ قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) چھوٹے تاجروں نے2025ء کو کاروباری، سرمایہ کاری، بیروزگاری اور مہنگائی کے اعتبار سے تاریخ کا بدترین سال قرار دے دیا ہے۔انہوں نے کہا 2025 ء میں تجارتی سرگرمیاں 60 فیصد سے بھی کم رہیں، سیاسی عدمِ استحکام نے معاشی بحران کو جنم دیا، مستقبل سے مایوسی اور غیریقینی صورتحال سے مقامی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا اور نئے تجارتی اور صنعتی یونٹس قائم نہ ہوسکے۔آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 ء تالہ بندی کا سال رہا۔ لاتعداد صنعتوں اور کاروبار کی بندش سے بیروزگاری میں ہولناک اضافہ ہوا، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا رحجان بڑھ گیا۔ مسلسل بڑھتی ہوئی ہولناک اور ناقابلِ برداشت مہنگائی نے 2025 ء کو غریب اور متوسط طبقے کے لیے ڈراؤنا خواب بنادیا۔ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعویدار صنعت و تجارت کو دیوالیہ ہونے سے نہ بچاسکے، 2025ء میں سرکاری شعبوں کی کارکردگی بدترین رہی اور عاقبت نااندیش اور غفلت میں ڈوبے حکمرانوں نے بیرونی سرمایہ کاری کے نام سے 35غیرملکی دورے کیے لیکن ایک دھیلہ بھی نہ آیا بلکہ مقامی سرمایہ بھی بیرونِ ملک منتقل ہوتا رہا۔ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اور حکمت عملی نظر نہیں آئی، 2026ء میں بھی دور دور تک مشکلات کے خاتمے اور بہتری کی امید نظر نہیں آرہی۔ آل کراچی تاجر اتحاد کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈالر کی ناقابلِ برداشت قیمتوں اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام نہ ہونے کے نتیجے میں معیشت مسلسل زوال پذیر اور ضروریات زندگی کی اشیاء غریب و متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ تاجروں کے کسی بھی سیل سیزن پر مارکیٹوں میں روائیتی رونقیں، گہما گہمی اور خریداری دیکھنے میں نہ آسکی۔حکمران مہنگائی میں کمی اور معاشی بحالی کے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے مصنوعی اور گمراہ کْن اشاریوں سے عوام کا دل بہلاتے رہے، اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر تجارت پست ترین درجے پر رہی۔آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر نے کہا کہ دال، گھی دودھ، گوشت، سبزیاں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہا، معاشی حب کراچی مکمل طور پر مافیاز کا شہر بن گیا، تاجر و صنعتکار بھتہ خوروں کی زد میں رہے، چار کروڑ آبادی کا شہر ناقابلِ برداشت مہنگائی، بیروزگاری، تجاوزات، زمینوں پر ناجائز قبضے، ٹریفک کی بدنظمی، پانی کا بحران، بدامنی، لاقانونیت اور اذیتناک بلدیاتی عذاب سے دوچار رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں