ملک کے مختلف علاقوں میں گھنی دھند کا راج، گاڑیوں کی آمدورفت متاثر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بارش کے گزرنے کے بعد پنجاب، خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے مختلف علاقوں میں شدید دھند چھا گئی، جس کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو گئے۔
حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے سبب موٹر ویز اور اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمدورفت خطرناک ہو گئی، حادثات کے خدشے پر مختلف مقامات پر ٹریفک روک دی گئی۔
موٹر وے پولیس کے مطابق ایم ون پشاور ٹال پلازہ سے برہان، ایم ٹو ٹھوکر نیاز بیگ سے بالکسر، ایم تھری فیض پور سے درخانہ، ایم فور شیر شاہ سے پنڈی بھٹیاں اور ایم فائیو روہڑی سے شیر شاہ تک بند ہے، جبکہ ایم الیون پر بھی ٹریفک معطل کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب نواب شاہ میں مہران ہائی وے پر شدید دھند کے باعث گاڑیوں میں تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حادثہ حدِ نگاہ کم ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
ادھر لاہور میں آج فضائی معیار قدرے بہتر ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم فیصل آباد اور شیخوپورہ میں فضا بدستور انتہائی مضرِ صحت قرار دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک صبح اور رات کے اوقات میں دھند برقرار رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔